• شارلٹسول میں امریکی شہریوں کا مظاہرہ

امریکی ریاست ویرجینیا کے شہر شارلٹسول میں بڑی تعداد میں طلبا اور سول سوسائٹی کے لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے انتہا پسندوں اور پولیس کے خلاف شدید نعرے لگائے۔

سفید فام انتہا پسندوں کے پرتشدد مظاہرے کے ایک سال پورے ہونے کے موقع پر اپنی احتجاجی ریلی کےدوران مظاہرین نے پولیس اور دائیں بازو کے انتہا پسندوں کے خلاف شدید نعرے لگائے اور یہ مظاہرہ دراصل پولیس کے خلاف مظاہرے میں تبدیل ہوگیا۔

مظاہرین نعرے لگارہے تھے کہ پولیس اور کوکلاکس کلان ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں۔ کے کے کے یا کوکلس کلان ان تین خفیہ تحریکوں کے نام ہیں جو امریکی تاریخ کے مختلف ادوار میں اور آج بھی سفید فاموں کی برتری پسندی اور نسلی تعصب کی حامی ہیں۔

شارلٹسول شہر کے مظاہرے کے شرکا نے اس بات پر شدید برہمی کا اظہار کیاکہ پولیس نے دوہزار سترہ میں انتہاپسند سفید فاموں کے مظاہرے پر کوئی ایکشن نہیں لیا اور اس سال بائیں بازو کے گروہوں کے مظاہرے پر پولیس نے سخت ایکشن لیا۔

امریکی پولیس کے خلاف یہ مظاہرہ اس نفرت اورغصے کو ظاہر کرتاہے جو نیو نازی گروہوں کے مظاہرے کو ایک سال کا عرصہ گذر جانے کے بعد بھی باقی ہے۔

دوہزار سترہ میں نیو نازی گروہوں نے اپنے ہاتھوں میں مشالیں اٹھاکر نسل پرستانہ نعرے لگائے تھے اوربائیں بازو کے گروہوں کے مظاہرے میں شریک لوگوں کو بری طرح زد و کوب کیا تھا۔

ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد انتہائی دائیں بازو کے شدت پسند اور نسل پرست گروہوں نے اپنے تشدد آمیز اقدامات میں اضافہ کردیا ہے۔ گذشتہ برس شارلٹسول شہر میں نسل پرست اور انتہا پسند سفید فاموں نے اپنے مظاہرے کے دوران عام شہریوں پر بھی حملہ کیا تھا جس میں ایک عام شہری ہلاک اور متعدد دیگر زخمی ہوگئے تھے۔

ٹیگس

Aug ۱۲, ۲۰۱۸ ۲۱:۳۹ Asia/Tehran
کمنٹس