• دہشت گردوں نے کلورین گیس ادلب منتقل کر دی، روس

شام میں قائم روس کے مصالحتی مرکز نے کہا ہے کہ دہشت گردوں نے کیمیائی حملوں کی غرض سے بھاری مقدار میں کلورین گیس شمال مغربی شام کے شہر ادلب کے رہائشی علاقوں میں منتقل کر دی ہے۔

رشیا ٹوڈے کے مطابق شام میں روسی مصالحتی مرکز کے ترجمان ولادیمیر ساؤ چنکوف کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ جبہت النصرہ نامی دہشت گرد گروہ نے دمشق حکومت پر کیمیائی حملوں کا الزام لگانے کی غرض سے، ادلب میں عام شہریوں کے خلاف زہریلے مواد کے استعمال کی تیاریاں کر لی ہیں۔
ساؤچنکوف نے اس سے پہلے بھی صوبہ ادلب میں موجود بعض عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا تھا کہ ایک امریکی اور کئی عرب ملکوں کے ٹی وی چینلوں کی ٹیمیں کیمیائی حملوں کے سیناریو کو فلمانے کے لیے صوبہ ادلب کے شہر جسر الشغور پہنچ گئی ہیں۔ اس قسم کے سیناریو کو فلمانے کا مقصد شام کی حکومت پر عام شہریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے جعلی ثبوت تیار کرنا ہے۔
پچھلے تین ہفتے کے دوران روس کی حکومت کئی بار اس جانب سے خبردار کر چکی ہے کہ دہشت گرد عناصر شامی حکومت پر صوبہ ادلب میں کیمیائی مواد کے استعمال کا الزام عائد کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
بہت سے ماہرین کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کی جانب سے شامی حکومت پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے الزامات کے لگانے کی غرض سے از خود کیمیائی حملوں کی منصوبہ بندی کرنے کا مقصد عالمی رائے کے ذہنوں کو گمراہ کرنا اور دمشق پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے حملوں کا راستہ ہموار کرنا ہے۔
امریکہ اور اس کے اتحادی شام میں دہشت گردوں کی عنقریب اور مکمل شکست پر سخت تشویش میں مبتلا ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ شمال مغربی شام اور خاص طور سے صوبہ ادلب اور صوبہ حلب کے ترک سرحد سے ملنے والے نواحی علاقوں میں دہشت گردوں کے آخری ٹھکانے باقی بچے ہیں اور شامی حکومت نے انہیں آزاد کرانے کا اعلان کر رکھا ہے۔
دمشق میں عسکری اور دفاعی ذرائع نے بتایا ہے کہ شامی فوج کے جوانوں نے شمالی حلب کے علاقے میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے قریب اپنے مورچے مستحکم کر لیے ہیں اور وہ غصن الزیتون آپریشن شروع کرنے کے لیے پوری طرح آمادہ ہے۔

ٹیگس

Sep ۱۶, ۲۰۱۸ ۱۵:۰۰ Asia/Tehran
کمنٹس