• جنرل اسمبلی میں امریکا اور اسرائیل کو ایک اور شکست

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے خلاف امریکا کے ذریعے پیش کی گئی قرارداد کو مسترد کر دیا گیا جبکہ صیہونی حکومت کے خلاف آئرلینڈ کے ذریعے پیش کی گئی قرارداد پاس کر دی گئی آئرلینڈ کی پیش کردہ قرارداد میں فلسطین پر صیہونی حکومت کے غاصبانہ قبضے کے خاتمے پر زور دیا گیا تھا۔

امریکی حکومت نے جمعرات اور جمعے کی درمیانی رات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے خلاف اپنی قرارداد پاس کرانے کی بھرپور کوشش کی لیکن امریکی قرارداد کے مسودے کے حق میں جنرل اسمبلی کے ارکان کے دو تہائی ووٹ نہیں مل سکے- اس قرارداد میں صیہونی حکومت کے خلاف حماس کے اقدامات کی مذمت کی گئی تھی-

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں حماس کے خلاف امریکی قرارداد کے حق میں چھیاسی اورمخالفت میں اٹھاون ووٹ پڑے جبکہ تینتیس ارکان نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا- قرارداد کو منظور کرانے کے لئے جنرل اسمبلی کے ننانوے ارکان کی حمایت ضروری تھی مگر وہ حاصل نہ ہو سکی اور یوں امریکا اور صیہونی حکومت کو اقوام متحدہ میں ایک اور شکست کاسامنا کرنا پڑا-

  اقوام متحدہ میں حماس کے خلاف امریکی قراراداد کا پاس نہ ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ صیہونیوں کے لئے امریکا کی اندھی حمایت اور واشنگٹن کی خودسری اب فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی حکومت کے مظالم کا پردہ چاک کرنے میں رکاوٹ نہیں بن سکتی-

امریکی قرارداد مسترد ہونے کے  بعد آئرلینڈ نے ایک مسودہ قرارداد پیش کیا جس میں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ سرزمین فلسطین پر اسرائیلی حکومت کا غاصبانہ قبضہ ختم کیا جائے۔

آئرلینڈ کی طرف سے پیش کی گئی  یہ قرار داد منظور ہو گئی- اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب مندوب اسحاق آل حبیب نے حماس کے خلاف امریکی حکومت کی قرارداد کی مخالفت میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطی میں جنگ و خونریزی اور بحران کی جڑ سرزمین فلسطین پر غاصب صیہونی حکومت کا غاصبانہ قبضہ ہے-

انہوں نے کہا کہ امریکی مسودہ قرارداد فلسطینیوں کے سلسلے میں امریکا کی خارجہ پالیسی کی حقیقی ماہیت کو اجاگر کر دیتا ہے-

ایران کے نائب مندوب نے کہا کہ اس سے یہ ظاہر ہو جاتا ہے کہ امریکا نے دنیا کو دھوکہ دینے، فلسطینیوں کے حقوق کو مکمل طور پر نظر انداز کر دینے اور اسرائیل کی اندھی حمایت کی پالیسی اپنا رکھی ہے-

انہوں نے فلسطینیوں کے خلاف صیہونی حکومت کے مظالم اور خاص طور پر غزہ کے محاصرے  کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کا یہ مسودہ قرارداد سرزمین فلسطین پر اسرائیل کے غاصبانہ قبضے اور غیر قانونی صیہونی بستیوں کے تعمیر کے اقدامات کو نظر انداز کرتا ہے-

ایران کے نائب مندوب نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اس مسودہ قرارداد کو پوری طرح مسترد کرتا ہے- ان کا کہنا تھا کہ تہران اس قرارداد کی مخالفت میں ووٹ دے گا اور دیگر سبھی ملکوں سے درخواست کرتا ہے کہ وہ بھی امریکی قرارداد کے خلاف ووٹ دیں-

ایران کے نائب مندوب نے فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کو ایک قانونی تحریک قرار دیا اور کہا کہ یہ تحریک اغیار کے قبضے سے اپنی سرزمین کو آزاد کرانے کے لئے جدوجہد کر رہی ہے-  

 

ٹیگس

Dec ۰۷, ۲۰۱۸ ۱۳:۵۳ Asia/Tehran
کمنٹس