• میں

اقوام متحدہ سے مستعفی ہونے والی امریکی مندوب نکی ہیلی نے کہا ہے وہ کہ عالمی ادارے پر امریکی خواہشات مسلط کرنے کے لیے یہ ظاہر کرتی رہی ہیں کہ ٹرمپ پاگل شخص ہے اور اس کےاقدامات کے بارے میں پہلے کوئی پیش گوئی نہیں کی جاسکتی۔

ایٹلانٹک جریدے کو انٹرویو دیتے ہوئے نیکی ہیلی کا کہنا تھا کہ وہ سلامتی کونسل میں اپنے منصوبوں کے ساتھ مذاکرات کے دوران، خاص طور سے شمالی کوریا کے خلاف قرارداد کی منظوری کے موقع پر، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پاگل ظاہر کرکے، زیادہ سے زیادہ مراعات حاصل کرنے اور واشنگٹن کی مطلوبہ قرارداد پاس کروانے کی کوشش کرتی رہیں ہیں۔

ہیلی نے اس سوال کے جواب میں کہ انہوں نے کس طرح سے دو مرتبہ روس اور چین کو شمالی کوریا کے خلاف پابندیوں کے لیے تیار کیا کہا کہ میں سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران ہمیشہ یہ کہتی تھی کہ میں نہیں جانتی کہ ٹرمپ آئندہ کیا فیصلہ کرنے والے ہیں۔ اکتوبر دوہزار سترہ میں بعض امریکی ذرائع ابلاغ نے بھی انکشاف کیا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حکومت میں اپنے قریبی ساتھیوں اور معاونین سے کہا ہے کہ وہ مذاکرات میں زیادہ سے زیادہ مراعات حاصل کرنے کے لیے انہیں یعنی ٹرمپ کو پاگل شخص کے طور پر پیش کریں۔

دوسری جانب سابق امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے جنہیں ٹرمپ نے بہ یک جنبش قلم ان کے عہدے سے برخاست کردیا تھا، اپنی خاموشی توڑتے ہوئے، ٹرمپ کو بے نظم اور قانون شکن شخص قرار دیا ہے۔

سی بی ایس ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے ریکس ٹلرسن کا کہنا تھا کہ ایک ایسے بے نظم شخص کے ساتھ کام کرنا کسی چیلنج سے کم نہیں، جو وضاحتی رپورٹوں کو نہیں پڑھتا اور معاملات کی تہہ میں جانے کا قائل نہیں ہے۔

ٹلرسن نے ٹرمپ کی جانب سے خلاف قانون کاموں پر اصرار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے سامنے قانون کی بات کی جائے تو ٹرمپ کو بہت برا لگتا ہے۔

سابق امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ٹرمپ اپنے ٹوئٹس کے ذریعے صدر بننے میں کامیاب ہوئے کیوں کہ لوگ ان دنوں انہیں کافی اہمیت دیا کرتے تھے۔

قابل ذکر ہے کہ ٹرمپ نے ریکس ٹلرسن کو مارچ دوہزار اٹھارہ میں ان کے عہدے سے برطرف کردیا تھا۔ ٹلرسن نے امریکی وزارت خارجہ کے کارکنوں اور معاونین کے ساتھ الوادعی ملاقات میں تقریر کرتے ہوئے اشاروں اور کنایوں کا استعمال کرتے ہوئے کہا تھا کہ اپنی دولت ضائع ہونے سے بچائیں کیونکہ امریکہ کی موجودہ خارجہ پالیسی میں تبدیلی کی اشد ضرورت ہے۔

ٹیگس

Dec ۰۸, ۲۰۱۸ ۱۷:۵۵ Asia/Tehran
کمنٹس