Dec ۱۲, ۲۰۱۸ ۲۰:۱۰ Asia/Tehran
  • بااثر علاقائی اور عالمی ممالک ایٹمی معاہدے کی حفاظت کریں، گوترش

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے سلامتی کونسل کی قرارداد بائیس اکتیس پر عمل درآمد سے متعلق اپنی چھٹی رپورٹ میں ایک بار پھر ایٹمی معاہدے کو چند جانبہ سفارتکاری کی ایک اہم کامیابی قرار دیا اور علاقائی اور عالمی اسٹیک ہولڈروں اور بااثر ملکوں سے کہا ہے کہ وہ ایٹمی معاہدے کو باقی رکھنے کی ضمانت فراہم کریں۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوترش نے اپنی تازہ رپورٹ میں جوسلامتی کونسل کے اجلاس میں پیش کی جانے والی ہے، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ایٹمی معاہدے کی سلامتی کونسل نے توثیق کی ہے کہا کہ یہ بین الاقوامی معاہدہ عالمی سلامتی کے تحفظ کے لئے ضروری ہے-

انہوں نے ایٹمی معاہدے پر ایران کی جانب سے پابندی کئے جانے کا خیر مقدم کیا- گوترش نے ایٹمی معاہدے سے امریکا کے نکلنے اور ایران کے خلاف ان پابندیوں کو دوبارہ نافذ کر دیئے جانے کے نتائج کے بارے میں جو  ایٹمی معاہدے کے نتیجے میں ختم ہو گئی تھیں، کہا کہ یہ صورتحال بھی اس معاہدے کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے-

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ایٹمی معاہدے سے امریکا کی علیحدگی اور ایران مخالف امریکی پابندیوں کا دوبارہ نفاذ ایٹمی معاہدے کے اہداف کو آگے بڑھانے کی راہ میں مشکلات کھڑی کرے گا، کہا کہ قرارداد بائیس اکتیس اقوام متحدہ کے سبھی رکن ملکوں سے کہتی ہے کہ وہ ایٹمی معاہدے کے نفاذ کی حمایت کریں اور ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کریں جو اس معاہدے کو کمزور کر سکتا ہے-

گوترش نے اپنی اس رپورٹ میں ویانا میں ایٹمی معاہدے  کے مشترکہ کمیشن کے اجلاس پیش کی گئی تجاویز اور ایران کے ساتھ تجارتی تعاون کے لئے نئے مالیاتی سسٹم کے قیام کی کوشش کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سبھی متعلقہ ممالک کو چاہئے کہ وہ جلد سے جلد اس نئے مالیاتی نظام کے قیام میں مدد کریں اور اس کی حفاظت کریں-

  اس درمیان لبنان کی النشرہ ویب سائٹ نے لکھا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی پوزیشن اور جغرافیائی حیثیت پر اور ایران و پانچ جمع ایک گروپ کے درمیان ایٹمی معاہدہ طے پانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف شدید ترین پابندیاں عائد کرنے میں ناکام رہے گا-

مذکورہ ویب سائٹ نے لکھا کہ ایران کے سلسلے میں امریکا اپنے مقاصد حاصل کرنے میں بری طرح سے ناکام ہو گا- اس ویب سائٹ نے امریکی ناکامیوں کی وجوہات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ زراعت و صنعت کے میدان میں ایران کی ترقی وپیشرفت کی وجہ سے اس کی معیشت و اقتصاد کافی مضبوط ہے جبکہ غذائی اشیا اور ادویات کی تیاری میں بھی وہ اپنے پیروں پر کھڑا ہو چکا ہے۔

علاوہ ازیں ایران کا پرامن ایٹمی پروگرام بھی ایسا ہے کہ اس سے ایٹمی انرجی پیدا کی جا رہی ہے اور اس پروگرام کے ذریعے وہ سائنس و ٹیکنالوجی میں کافی آگے بڑھ چکا ہے اس لئے امریکا ایران کے سلسلے میں اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکے گا-

مذکورہ ویب سائٹ نے لکھا ہے کہ ایٹمی معاہدے سے قبل دنیا کے ممالک سلامتی کونسل کی قرارداد کی وجہ سے ایران پر عائد پابندیوں کی وجہ سے ایران کے ساتھ تجارت نہ کرنے پر مجبور تھے لیکن آج ایٹمی معاہدے کے بعد صورت حال یکسر مختلف ہے اور ایران کے خلاف پابندیاں عائد کرنے میں امریکا اکیلا پڑ گیا ہے اور یہاں تک کہ اس کے یورپی اتحادی بھی اس مسئلے میں واشنگٹن کے ساتھ نہیں ہیں اور سابقہ پابندیوں کے برخلاف امریکا کے بہت سے اتحادیوں نے کھل کر کہہ دیا ہے کہ وہ ایران مخالف امریکی پابندیوں کا ساتھ نہیں دیں گے اس لئے ایران کو نقصان پہنچانے کے تعلق سے امریکا کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں کر سکے گا-

  مذکورہ ویب سائٹ نے لکھا ہے کہ ایران کے تیل و گیس کی برآمدات کو صفر تک پہنچانے کا امریکا کا اعلان خود اس کے اس اقدام سے ہی دم توڑ گیا ہے جس کے تحت اس نے دنیا کے آٹھ ملکوں کو ایران سے تیل و گیس درآمد کرنے کی چھوٹ دے دی ہے، بنابریں یہ سارے عوامل اس بات کا باعث بنے ہیں کہ ایران کے خلاف امریکی پابندیاں شروع سے ہی ناکام ہو جائیں-

کمنٹس