Jan ۱۷, ۲۰۱۹ ۱۶:۳۳ Asia/Tehran
  • سلامتی کونسل نے یمن میں جنگ بندی کے نگراں کمیشن کی منظوری دے دی

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے یمن کے مغربی ساحلی صوبے الحدیدہ میں فائربندی کی نگرانی کے لئے کمیشن کی منظوری کی قرار داد پاس کردی ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان نے اتفاق رائے سے ایک قرارداد منظور کرلی ہے جس میں اسٹاک ہوم مذاکرات اور سمجھوتے کے تحت یمن کی مغربی بندرگاہ الحدیدہ اور الحدیدہ صوبے میں فائربندی کی نگرانی کے لئے ایک نگراں کمیشن تشکیل دینے کی بات کی گئی ہے۔

اس قرارداد کے مطابق اقوام متحدہ کا سیکریٹری ایٹ اس بات کا پابند ہے کہ وہ الحدیدہ میں فائربندی اور فوجیوں کے انخلا کے عمل کی نگرانی کے لئے ایک کمیشن تشکیل دے۔ یہ کمیشن اس بات کی بھی نگرانی کرے گا کہ کس فریق کی جانب سے فائربندی کی کتنی پابندی کی جارہی ہے۔ 

قرارداد کے مطابق اقوام متحدہ کو اس بات کا بھی پابند بنایا گیا ہے کہ وہ الحدیدہ میں امن قائم کرنے کے لئے مقامی قوتوں کے ساتھ تعاون کرے۔

جارح سعودی نے یمن میں اپنی جارحیت کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے گذشتہ برس جون کے وسط سے یمن کی مغربی بندرگاہ الحدیدہ پر قبضہ کرنے کے لئے اس علاقے پر خاص طور پر اپنے حملے تیز کردئے تھے لیکن یمنی فوج اورعوامی رضاکارفورس نے انتہائی بہادری اور بے جگری کے ساتھ جارح قوتوں کا مقابلہ کیا۔

یمن کے مظلوم اور محصور عوام کے لئے اشیائے خورد و نوش اور دواؤں کی ستر فیصد امدادی کھیپ اسی بندرگاہ سے یمن پہنچائی جاتی ہیں۔ اس درمیان جرمن وزیرخارجہ نے کہا ہے کہ اگر جارح سعودی اتحاد کی جنگ جاری رہتی ہے تو یمن میں انسانی المیہ رونما ہوسکتا ہے۔

جرمن وزیرخارجہ ہایکو ماس نے برلین میں ایک کانفرنس میں تقریرکرتے ہوئے جس میں یمن کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے مارٹن گریفتھس اور یمن کے لئے انسان دوستانہ امداد کے اقوام متحدہ کی کوآرڈینیٹر لیز گرینڈ بھی موجود تھیں، خبردارکیا کہ یمن میں انسانی المیہ رونما ہونے کا خطرہ سنگین ہوگیا ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب نے امریکا کی ایماء اپنے چند اتحادی ملکوں کے ساتھ مل کر یمن پر مارچ دوہزار پندرہ سے وحشیانہ حملے شروع کررکھے ہیں جن کے دوران اب تک دسیوں ہزار یمنی شہری شہید اور زخمی ہوچکے ہیں۔

جبکہ دسیوں لاکھ یمنی شہری اپنے گھروں سے بے گھر ہوگئے ہیں۔ جارح سعودی اتحاد کے وحشیانہ حملوں سے یمن کی بیشتر شہری تنصیبات تباہ ہوچکی ہیں اور محاصرے کے نتیجے میں لاکھوں افراد قحط اور بھوک مری کا شکار ہوگئے ہیں۔

ٹیگس

کمنٹس