Mar ۲۱, ۲۰۱۹ ۱۰:۰۵ Asia/Tehran

پندرہ مارچ کو نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دومساجد میں نسل پرست دہشت گرد نے نماز جمعہ کے دوران فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں پچاس سے زائد مسلمان شہید ہو گئے تھے۔

اعداد و شمار کے مطابق نیوزی لینڈ میں عام لوگوں کے پاس ڈیڑھ ملین کے قریب ہتھیار موجود ہیں اور سولہ سال کی قانونی عمر کو پہنچنے والا کوئی بھی فرد آسانی سے اسلحہ خرید سکتا ہے۔

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جسنڈا ایرڈن نے کہا ہے کہ کرائسٹ چرچ حملے کے مجرم کو ملکی قوانین کے تحت سخت ترین سزا دی جائے گی۔

گزشتہ روزوزیراعظم نیوزی لینڈ جیسنڈا آرڈرن نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ سانحہ کرائسٹ چرچ میں جاں بحق ہونے والے مسلمانوں کی یاد میں جمعہ کو سرکاری ریڈیو اورٹیلی ویژن سے براہ راست اذان نشرکی جائے گی اور نیوزی لینڈ میں 2 منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی۔

ٹیگس

کمنٹس