Mar ۲۳, ۲۰۱۹ ۱۱:۴۲ Asia/Tehran
  • جولان پہاڑی سے متعلق ٹرمپ کے بیان کی مذمت کا سلسلہ جاری

یورپی یونین، عرب لیگ، ترکی اور شام نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جولان پہاڑی کو اسرائیلی ملکیت تسلیم کرنے کے بیان کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق یوروپی یونین کے ترجمان نے جولان پہاڑی علاقے پر اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کو تسلیم کرنے سے متعلق امریکی صدر کے اعلان  پرکہا کہ اس سلسلے میں یوروپی یونین کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے اس لئے کہ یوروپی یونین 1967 سے اسرائیلی قبضے میں رہنے والے جولان پہاڑی علاقے کو اسرائیلی خطے کا حصہ شمار نہیں کرتی ہے۔

عرب لیگ نے بھی امریکی فیصلے کو بین الاقوامی قانون کی حدود سے تجاوز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی فیصلے کے خطے میں سنگین اثرات مرتب ہوں گے، عالمی قوتوں کو امریکی صدر ٹرمپ کو آگ سے کھیلنے کی اجازت نہیں دینا چاہیے۔

عرب لیگ کے سکریٹری جنرل احمد ابو الغیط نے کہا کہ عرب تنظیم جولان پہاڑی علاقہ کے معاملے میں شام کی حمایت کرتی ہے۔

ترکی کے صدر طیب اردوغان نے صدر ٹرمپ کو خطے میں بحرانی کیفیت پیدا کرنے سے باز رہنے کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر کا جولان کے پہاڑی علاقے سے متعلق غیر مناسب بیا ن خطے میں کشیدگی کا باعث بنے گا اور کسی بھی ملک کو پہاڑی علاقے پر اسرائیلی کے قبضے کو قانونی حیثیت دینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

دوسری جانب شام کی وزارت خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جولان کی پہاڑیوں کے بارے میں امریکی موقف میں اچانک تبدیلی حقیقت میں بین الاقوامی رائے اور قانون کی توہین ہے، امریکی فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ صیہونی قبضے کے ساتھ ساتھ جارحانہ اقدامات کی حمایت کا تسلسل بھی ہے جس کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے متنازع بیان میں امریکی پالیسی کے برخلاف جولان پہاڑی کے علاقے پر اسرائیل کے 60 کی دہائی میں قابض ہونے کو جائز قرار دیتے ہوئے اس علاقے کو اسرائیل کی ملکیت قرار دینے کا عندیہ دیا تھا۔

 

ٹیگس

کمنٹس