Sep ۱۳, ۲۰۱۹ ۰۹:۴۳ Asia/Tehran
  • سعودی بادشاہ کی بیٹی کوسزا

فرانس میں سعودی بادشاہ کی بیٹی اور سعودی ولی عہد کی بہن کو سزا ہوئی ہے۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق فرانس میں ایک مزدور کو محافظ کے ہاتھوں مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنانے والی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی بہن کو 10 ماہ قید اور جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔

ستمبر 2016 میں پیرس کے پوش علاقے ایونیو فوش میں واقع اپارٹمنٹ میں سعودی شاہ کی بیٹی اور محمد بن سلمان کی بہن حسہ بنت سلمان نے ایک ملازم کو محافظ کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنوایا تھا اور اس حوالے سے عدالتی کارروائی کا آغاز جولائی 2019 میں ہوا تھا۔

سعودی شہزادی کے خلاف دسمبر میں گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری ہوئے تھے جبکہ اب پیرس کی عدالت نے انہیں 10 ماہ قید  کی سزا کے ساتھ 10 ہزار یورو جرمانہ ادا کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔

42 سالہ حسہ بنت سلمان پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنے محافظ رانی سیدی کو حکم دیا تھا کہ پلمبر اشرف عید کی پٹائی کرے کیونکہ وہ ان کے گھر کی تصاویر لے رہا تھا۔

سعودی شہزادی پر دانستہ تشدد، غیر قانونی طور پر قید اور چوری کی دفعات کے تحت فرد جرم عائد کی گئی تھی، تاہم وہ کسی سماعت کے دوران عدالت میں پیش نہیں ہوئیں بلکہ ان کا محافظ ہی عدالت میں پیش ہوا، جسے 8 ماہ کی سزا اور 5 ہزار یورو جرمانے کی سزائیں سنائی گئیں۔

خیال رہے کہ تشدد کا نشانہ بننے والے اشرف کا اپنے بیان میں موقف تھا کہ ان کے ہاتھ باندھ کر شہزادی کے پاؤں کا بوسہ لینے کا حکم دیا گیا تھا جسے اس نے ماننے سے انکار کیا جس پرانہیں کئی گھنٹے تکت تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

فرانس میں 'لی پوانٹ' نیوز میگزین کو دیئے گئے بیان میں کاری گر اشرف نے کہا کہ شہزادی نے چیختے ہوئے کہا تھا ’اسے قتل کردو، اسے جینے کا کوئی حق نہیں‘۔

ٹیگس

کمنٹس