Nov ۰۶, ۲۰۱۹ ۱۷:۲۲ Asia/Tehran
  • ایران کے چوتھے قدم پر امریکہ کا ردعمل

امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان نے ایٹمی سمجھوتے پر عمل درآمد میں کمی لانے کے ایران کے نئے اقدام پر ردعمل ظاہر کیا ہے

روئٹر کی رپورٹ کے مطابق امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان مورگن اورٹیگس نے چھے نومبر کو ایران کی جانب سے ایٹمی سمجھوتے پر عمل درآمد کی سطح میں کمی لانے کے چوتھے قدم پر کمزور ردعمل ظاہر کرتے ہوئے دعوی کیا کہ تہران کا یورے نیئم کی افزودگی بڑھانے کا یہ اقدام ایک غلط راستے پر بڑا قدم ہے۔  اورٹیگس نے کہا کہ واشنگٹن ، ایران کے ایٹمی پروگرام میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے سلسلے میں ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کی رپورٹ کا انتظار کرے گا تاہم حداکثر دباؤ کی پالیسی جاری رکھے گا تاکہ یہ ملک ایٹمی پروگرام کے سلسلے میں اپنے حساس قدم کا سلسلہ روک دے۔

ایران کے امور میں امریکی حکومت کے خصوصی نمائندے برایان ہوک نے واشنگٹن اور یورپ کی وعدہ خلافیوں کے مقابلے میں تہران کی جانب سے انجام دیئے جانے والے اقدامات کا سلسلہ جاری رہنے کی طرف کوئی اشارہ کئے بغیر کہا کہ پابندیوں کے بغیر ایران کو مذاکرات کی میز پر نہیں لایا جا سکتا۔

امریکہ نےگذشتہ ڈیڑھ برس سے زیادہ عرصے سے ایٹمی سمجھوتے سے یکطرفہ طور پر باہر نکل جانے کے ساتھ ہی ایران کے خلاف تیل اور بینکنگ کے شعبوں میں شدید پابندیاں عائد کر رکھی ہیں تاہم ابھی تک تہران پر دباؤ کی حالت میں مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیاب نہیں ہوا ہے۔

دوسری جانب ویانا میں بین الاقوامی اداروں میں روس کے نمائندے نے تاکید کے ساتھ کہا ہے کہ امریکہ کو ایران کے خلاف اقدامات اور تیل کے شعبے میں نافذ پابندیوں کا سلسلہ ختم کرنا چاہئے۔

بین الاقوامی اداروں میں روسی نمائندے میخائل اولیانوف نے ایٹمی سمجھوتے پر عمل درآمد کی سطح کم کرنے کے لئے ایران کے چوتھے قدم پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی جانب سے اس قدم کی پیشگوئی کی جا سکتی تھی کیونکہ تہران نے ہر دو مہینے میں ایک بار ، ایٹمی سمجھوتے پر عمل درآمد کم کرنے کے سلسلےمیں اپنا اگلا قدم اٹھانے کا عہد کیا ہے۔

اقوام متحدہ میں روس کے نمائندے نے مزید کہا کہ امریکہ کو ایران کے تیل پر پابندیاں عائد کرنے کی غیرقانونی کوششوں اور مداخلتوں کا سلسلہ ختم کردینا چاہئے۔اس سے قبل روس کے نائب وزیرخارجہ سرگئی ریابکوف نے ایٹمی سمجھوتے پر عمل درآمد کم کرنے کے لئے ایران کے نئے قدم کو منطقی قراردیا اور کہا کہ امریکہ ، موجودہ صورت حال کا ذمہ دار ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی نے منگل کو فردوایٹمی پلانٹ سے ایٹمی سمجھوتے پر عمل درآمد کی سطح میں کمی لانے کے لئے چوتھا قدم اٹھائے جانے کا اعلان کرتے ہوئے تاکید کی کہ ایٹمی سمجھوتے کے تمام فریقوں کو جان لینا چاہئے کہ ایران یکطرفہ طور پر ایٹمی سمجھوتے کی پابندی نہیں کر سکتا ۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے منگل کو فردوایٹمی پلانٹ سے ایٹمی سمجھوتے پر عمل درآمد کی سطح میں کمی لانے کے لئے چوتھا قدم اٹھائے جانے کا اعلان کرتے ہوئے تاکید کی ہے کہ ایٹمی سمجھوتے کے تمام فریقوں کو جان لینا چاہئے کہ ایران یکطرفہ طور پر ایٹمی سمجھوتے کی پابندی نہیں کر سکتا ۔

تہران نے ایٹمی سمجھوتے سے امریکہ کے نکلنے اور اس سمجھوتے پر عمل درآمد میں یورپ کی ناکامی کے ایک سال بعد ایٹمی سمجھوتے پر قدم بہ قدم عمل درآمد کی سطح میں کمی لانا شروع کردیا ہے۔ایران کی جانب سے ایٹمی سمجھوتے پر عمل درآمد میں کمی ، یورے نیم کی افزودگی تین اعشاریہ چھ سات فیصد سے زیادہ کرنے، افزودہ یورے نیئم کا ذخیرہ بڑھانے اور ایٹمی سمجھوتے کی توسیع و تحقیق کے شعبے میں تمام وعدوں پر عمل درآمد کو روک دینے پر مشتمل ہے۔

 

ٹیگس

کمنٹس