Oct ۰۱, ۲۰۲۰ ۱۰:۵۱ Asia/Tehran
  •  آرمینیا کی فوج کی پسپائی تک فوجی کارروائی جاری رہے گی: آذربائیجان

آذربائیجان نے متنازع علاقے قرہ باغ سے آرمینیا کی فوج کی مکمل پسپائی تک فوجی کارروائی جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

غیر ملکی خبر ایجنسیوں کی رپورٹوں کے مطابق آذربائیجان کے صدر الہام علی اف نے کہا ہے کہ ہماری صرف ایک شرط ہے کہ آرمینیا کی مسلح افواج غیر مشروط، مکمل اور فوری طور پر ہماری سرزمین خالی کردیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر آرمینیا کی حکومت اس مطالبے کو پورا کرتی ہے تو جنگ اور خون ریزی ختم ہوگی جس کے بعد خطے میں امن قائم ہوگا۔

قبل ازیں آذربائیجان کے وزیرخارجہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ باکو اپنے علاقے میں مسلط کی گئی جارحیت کے انسداد، مکمل طور پر خود مختاری اور امن کی بحالی تک جوابی وار جاری رکھے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم واضح طور پر آرمینیا کی فوج کا آذربائیجان کے خطے سے انخلا چاہتے ہیں۔

دنوں ہی ممالک مذاکرات کے لئے پڑنے والے دباؤ کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔

انسٹاگرام پر آپ ہمیں فالو کر سکتے ہیں

واضح رہے کہ کئی دہائی قدیمی تنازع کے نتیجے میں اتوار کے روز جھڑپیں شروع ہوئی تھیں جس کے بعد دونوں ممالک ایک دوسرے پر جنگ شروع کرنے کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔

جمہوریہ آذربائیجان کی وزارت دفاع نے بدھ کے روز اپنے بیان میں کہا کہ قرہ باغ علاقے کے قریب واقع تتر شہر پر آرمینیا کی جانب سے فائرنگ کی جا رہی ہے جس سے عوامی مقامات کو نقصان پہنچا۔

آذربائیجان جمہوریہ کے حکام کا کہنا ہے کہ آرمینیا کے حملوں میں اب تک 12 آذری ہلاک اور 35 زخمی ہو چکے ہیں۔

آرمینیا کا کہنا ہے کہ آذربائیجان کی فوج نے قرہ باغ علاقے میں حملہ کرکے کافی نقصان پہنچایا ہے۔ آذربائیجان جمہوریہ کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ملک کی فوج نے کم از کم 2700 آرمینیائی فوجیوں کو ہلاک اور زخمی کر دیا ہے۔

آرمینیا نے آذربائیجان کے دعوے کو بے بنیاد اور جھوٹ قراد دیا ہے۔

بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ 4 روز سے جاری جھڑپوں میں اب تک دونوں اطراف سے مجموعی طور پر 100 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ تاہم ابھی تک دونوں ممالک کی جانب سے اس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

نیگورنو- قرہ باغ کا علاقہ 4 ہزار 400 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے اور 50 کلومیٹرآرمینیا کی سرحد سے جڑا ہے۔

ٹیگس

کمنٹس