Oct ۲۵, ۲۰۲۰ ۱۷:۳۳ Asia/Tehran
  • ٹرمپ نے انتخابی جائزوں کو جعلی قرار دے دیا

رائے عامہ کے جائزوں اور تجزیوں کے بر خلاف امریکی صدر نے آئندہ ہونے والے انتخابات میں اپنی فتح کا ایک بار پھر دعوی کیا ہے۔

امریکہ میں کرائے جانے والے رائے عامہ کے زیادہ تر جائزوں اور تجزیوں کے مطابق ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار جو بائیڈن کو برتری حاصل ہے تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایسے جائزوں کو جعلی قرار دیتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ ریاست اوھائیو، کیرولائنا اور فلوریڈا سے وہی کامیاب ہوں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی انتخابات میں فیصلہ کن سمجھی جانے والی ایک اہم ریاست کے طور پر فلوریڈا کے عوام پر اثر انداز ہونے کے لیے ریاست کا دورہ کیا اور اسی ریاست کے ایک پولنگ اسٹیشن پر جا کے قبل از وقت اپنا ووٹ بھی کاسٹ کیا۔

ٹرمپ نے اس اقدام کے ذریعے یہ جتلانے کی کوشش کی ہے کہ انہیں پوسٹل بیلٹ پر اعتبار نہیں ہے اور یہ کہ ڈاک کے ذریعے ڈالے جانے والے ووٹوں کی سیکورٹی مشکوک ہے۔ امریکی صدر اس کے بعد شمالی کیرولائنا گئے جہاں انہوں نے ایک انتخابی جلسے سے خطاب کیا۔ بعدازاں وہ اوھائیو گئے اور وہاں سے وسکانسن پہنچے اور اپنے حامیوں سے خطاب کیا۔

ٹرمپ نے اپنی تمام تقریروں میں پرانی باتیں بار بار دھرائیں، ڈیموکریٹ رقیب جوبائیڈن کے خلاف الزامات کا اعادہ کیا اور اپنی خارجہ پالیسی کی تعریف کرتے رہے۔

ٹرمپ نے اپنی خارجہ پالیسی کی ایسی حالت میں ستائش کی ہے کہ عالمی براداری ان کی خارجہ پالیسی پر بدستور معترض ہے۔

دوسری جانب وائٹ ہاوس کی ترجمان کیلی میک انانی نے دعوی کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنا بیرونی کاروبار ختم کر دیا ہے، چین کے ساتھ مشکوک اقتصادی رابطے نہیں ہیں اور امریکہ ان کی اولین ترجیح ہے۔

امریکہ کے دونوں صدارتی امیدوار اور ان کے حامی ایک دوسرے پر بیرونی طاقتوں کے ساتھ غیر قانونی اور خفیہ تعلقات رکھنے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔

اسی دوران امریکی جریدے فوربز نے لکھا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنے ایک ٹاور کے کرائے کی مد میں چینی بینک سے ساڑھے پانچ ملین ڈالر بطور کرایہ وصول کیے ہیں۔ اس سے پہلے انکشاف کیا گیا تھا کہ ٹرمپ کا ایک چینی بینک میں اکاونٹ بھی موجود ہے جس کے ذریعے وہ چین میں بڑے ترقیاتی منصوبوں کا ٹھیکہ حاصل کرنے کی تگ و دو کرتے رہے ہیں۔

امریکہ کے دونوں صدارتی امیدواروں نے اپنے دوسرے اور آخری مباحثے کے دوران خارجہ پالیسی پر بات کرنے کے بجائے ایک دوسرے پر بیرونی طاقتوں سے رشوت وصول کرنے کے الزامات عائد کیے تھے۔

امریکہ میں انسٹھویں صدارتی انتخابات تین نومبر کو کرائے جائیں گے جس کے لیے قبل از وقت پولنگ اور پوسٹل بیلٹ کے ذریعے رائے دھی کا پہلے ہی آغاز ہو چکا ہے اور اب تک کئی لاکھ ووٹ ڈالے جا چکے ہیں۔

ٹیگس

کمنٹس