یہ خط کاظم عابدی صاحب کا ہے، غازی پور، یو پی، سے۔

کاظم عابدی صاحب نےشروع میں بھی ایک شعر لکھا ہے اور خط کا اختتام بھی ایک شعر پر کیا ہے۔ خط کےشروع میں یہ شعر لکھا ہے کہ

قریب یاروہے روزمحشر چھپےگا  کشتوں کا خون کیونکر

جو چپ  رہے گی  زبان خنجر  لہو پکارے گا آستیں کا (امیر مینائي)

اس کے بعد لکھتے ہیں کہ ریڈیو تہران سے آيت اللہ شیخ باقر النمر و دیگر شہدائے سعودی عرب کی شہادت حسرت آیات کی اندوہناک خبریں سنیں۔ ہوش و حواس جاتے رہے۔ آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ خون شہیداں کی سرخی انشااللہ عنقریب رنگ لائے گي اور شاہ سلمان رجیم کا تاج ریاض کے عجائب خانے میں عبرت کے لئے محفوظ ہوگا، آمین۔ کرہ ارض پر سلفی اور تکفیری مکاتب فکر نے بدامنی پھیلا رکھی ہے۔ سعودی عرب اسرائيل کی خفیہ ملاقاتوں کے بعد یہ سانحہ رونما ہونا یقینی تھا۔ حکومت سعودی عرب منافرت پھیلا کراتحاد اسلامی کو پارہ پارہ کر رہی ہے جس سے صیہونیوں کی مرادیں برآئي ہیں۔ کاظم عابدی صاحب نے اپنا خط اس شعر پر ختم کیا ہے۔

ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے

خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا (ساحر لدھیانوی)

 

 

 

Sep ۲۹, ۲۰۱۶ ۱۸:۰۶ UTC
کمنٹس