گزشتہ برس فروری میں پشاورشہر کے ایک پوش علاقے حیات آباد امامیہ مسجد پر آرمی پبلک سکول کےطرز پر طالبان دہشت گردوں کے ایک اور خونی حملے میں جرآت اور بہادری کیلازول داستان رقم کرکے ہینڈ گرینڈ دھماکے اور فائرنگ کے باوجود خودکش حملہ آور کو گردن میں دبوچ کر ہلاک کرکے سینکڑوں نمازیوں کی جان بچانے والے جری نڈر و بہادر شہید عباس علی کو ستارہ جرآت و تمغئہ جرآت دینے میں نظر انداز کیا گیا؟؟

تحریر:۔ ساجد حسین

ساجد حسین کا تعلق پاک افغان بارڈر سے متصل فاٹا کے علاقے سے ہے،عالمی و علاقائی سطح پر ہونے والے واقعات و تبدیلیوں پر نظر رکھتے ہیں۔



اس طرح حکومت کی طرف سے دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے اب بھی دہری پالیسی اور دہشت گرد طالبان کے خلاف مقاومت کرنے والے عوام بالخصوص شہید عباس علی کی جرآت و بہادری کو نظر انداز کرنا ایک طریقے سے خوارج نما درندہ صفت طالبان دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی کے مترادف ہے۔، شہید عباس علی بھی اپنی جان بچانے کے لئے کسی دیوار کے کونے میں (جس طرح آرمی پبلک سکول کے طلبا اور ملک کے دیگر حصوں میں دہشت گردوں کے حملوں کے بعد لوگ جان بچاتے ہیں) یا پھر کسی میز کے نیچے چھپ سکتے تھے ۔

لیکن نڈر و بہادر شہید عباس علی کا تعلق ایک ایسے علاقے سے ہے جہاں شجاعت و بہادری اور شہادت کا جزبہ مائیں اپنے بچوں کو دودھ میں پلاتی ہیں،پاک افغان بارڈر پر واقع جغرافیائی و سٹرٹیجک اہمیت کے حامل جنت نظیر علاقے پاراچنار جس کے بہادر و دلیر جانبازوں اور عوام نے خوارج نما درندہ صفت طالبان دہشت گردوں کے روحانی باپ جرنل ضیا کے دور سے جرنیلی ریاست کے پالے طالبان دہشت گردوں کے مسلح لشکروں کا ڈٹ کر مقابلہ اور مزاحمت کرکےڈھائی ہزار سے زیادہ شہدا اور دس ہزار سے زیادہ زخمی و مجروحین کی قربانیاں دے کر بہادری کی لازول داستانیں رقم کرکے پاراچنار کی سرزمین کو شہدا کی دھرتی اور دہشت گرد طالبان کو میدان میں شکست دینے والے علاقے کا نام دیا ہے،،بہادر و جری اور نڈر شہید عباس علی اس دھرتی و شہدا کے گلستان پاراچنار کا ایک نمایاں  رخ پھول بن گیا ہے جس کے مزار پر عقیدت کے پھول نچھاور کرنے کے لئے پاراچنار کے بہادر جوانوں بزرگوں و بچوں  کا تانتا بندھا ہوا ہے۔

لیکن افسوس صد افسوس دہشت گردی  اور طالبان دہشت گردوں کے خلاف بلند و بالا تقاریر و زبانی جمع خرچ دعوے کرنے والے کسی بھی اعلی سول و ملٹری حکام کو یہ توفیق نہ ہوئی کہ بہادر و جری شہید عباس علی کے مزار پر حاضری دے سکیں یا پھر ان کے گھر والوں کی دادرسی کرسکیں اور نہ ہی سول سوسائٹی اور ہیومن رائٹس گروپس کے نمائندوں کو یہ توفیق نصیب ہوئی جو دہشت گردی اور دہشت گرد طالبان کے خلاف کافی حد تک سرگرم رہتے ہیں لیکن شہید عباس علی کے معاملے میں سول سوسائٹی بھی مکمل خاموش ہے؟؟ نہ جانے کیوں ۔ شاید ایک وجہ یہ ہو کہ مختلف اداروں اور حکومتوں میں موجود مٹھی بھر تکفیری زہنیت اور دہشت گرد طالبان کے حامی طالبان دہشت گردوں کے روحانی باپ جرنل ضیا کی باقیات ایک مضبوط لابی( جن کے ابا و اجداد  نے تکفیریت اور دہشت گردی میں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح تک کو نہیں بخشا اور یہی تکفیری گروہ اب بھی قائد اعظم کو کافر اعظم سمجھتے رہے ہیں ایسے نمک حرام و احسان فراموشوں کے لئے شہید عباس علی کو نظر انداز کرنا کونسی بڑی بات ہے)۔

طالبان دہشت گردوں کے روحانی باپ جرنل ضیا کی باقیات اگر ایک طرف شہید عباس علی کی قربانی کو چھپانا چاہتے ہیں تو دوسری طرف شہید عباس علی کے آبائی علاقے پاراچنار سے انہیں یہ شکایت بھی ہے۔ کہ جب سن اسی کی دہائی میں جرنل ضیا  سے لے کر سن انیس سو چھیانوے میں جرنل ر نصیر اللہ بابر کے ہاتھوں پاراچنارفسادات کے بہانے افغانستان میں ہزاروں طالبان بھیج کر افغانستان میں دہشت گرد طالبان حکومت کے قیام اوراکیسویں صدی کی پہلی دہائی میں جنرل پرویز مشرف کے جرنیلی ریاست  میں پاک افغان بارڈر پر واقع پاراچنار کے ذریعے نام نہاد گڈ طالباند (یاد رہے بعد میں یہی نام نہاد گڈ طالبان بیڈ طالبان اور آستین کے سانپ بنتے گئے جنہوں نے جی ایچ کیو،کامرہ مہران و نیول بیس اور آخر  کار آرمی پبلک سکول میں حملے کئیے)۔پاراچنار کے راستے افغانستان بھیجتے  رہے، شکر ہے کہ اب جنرل پرویز مشرف نے تو  کھلے عام اس جرم کا اعتراف کرلیا۔۔لیکن پاکستان میں جرنل مشرف کو سزا کون دےگا؟؟

پاک افغان بارڈر پر واقع پاراچنار کے جری و بہادر عوام کی اکثریت نے پاراچنار کے راستے افغانستان بھیجے جانے والے طالبان اور اس دہشت گردی کے خلاف مزاحمت (ہاں چند گنے چنے اور ضمیر فروش درباری عمائدین اور نام نہاد قبائلی مشران یا ملکان حتی کہ بعض درباری ملاوں تک نے طالبان دہشت گردوں کے افغانستان بھجنے پر خاموشی و رضامندی اختیار کی) ۔لیکن پاراچنار اکثریت عوام نے اس دہشت گردی کے خلاف احتجاج اور میدان عمل میں مزاحمت کی، کیونکہ  ایک علاقائی مقولے کے مطابق اگر آپ کسی کے گھر پتھر بھیجو گے تو پھر اپنے گھر میں پھول کی امید نہ رکھیں ۔

ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کے بدلےجنرل پرویز مشرف کے دور سے لےکر پانچ سال تک پاراچنار کے عوام کا بدترین  محاصرہ اور اقتصادی ناکہ بندی کرکے ٹل پاراچنار شاہراہ کو صرف اور صرف  طالبان مخالف پاراچنار کے طوری و بنگش قبائل کے لئے بند کرکے غزہ ثانی بنا دیا گیا۔ حالانکہ یہی ٹل پاراچنار شاہرا سول و ملٹری حکام اور  اورکزئی ایجنسی خیبرایجنسی وزیرستان حتی کہ جنوبی پنجاب سے آنے والے  تکفیری دہشت گرد طالبان گروہوں اور نام کی حد تک کالعدم تنظیموں کے لئے یہ شاہرا کھلی رہی،،جو اک طرف پاراچنار کے عوام پر حملے کرتے رہے اور  دوسری طرف پاراچنار کے راستے افغانستان جا کر کاروائیاں کرتے رہے۔

پاراچنار کے عوامی و سماجی حلقوں کے نمائندوں کے مطابق حکمران اللہ کی بےآواز لاٹھی سے ڈریں اور ریاستی ظلم جبر بند کردیں وگرنہ ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔ شہید عباس علی کو نظر انداز کرنے کی دوسری وجہ شاید یہ ہو کہ پشاور میں بہادری کی داستان رقم کرنے والے شہید عباس علی کی بہادری کی تعریف کرتے ہوئے کے پی کے کے وزیراعلی نے ایک اخباری بیان کے مطابق کہا تھا کہ میں شہید عباس علی کو ستارہ جرآت و تمغئہ جرآت دینے کے لئے وزیراعظم کو سفارش کروں گا۔اب اس کی اصل حقیقت کیا ہے کہ کیا کے پی کے کے وزیراعلی نے اپنا یہ وعدہ پوارا کیا یا نہیں۔ فرض کریں اگر پورا بھی کیا تو صوبائی حکومت و مرکزی حکومت اور وزیر اعلی کے پی کے و وزیراعظم کے دو متحارب پارٹیوں کے درمیان سیاسی مخالفت و کشمکش  کی وجہ سے کہیں شہید عباس علی کو نظر انداز نہ کیا گیا ہو کیونکہ  بدقسمتی سے پاکستان میں اہم قومی ایشو اور ہیروز کی قدردانی بھی باہمی سیاسی چپقلش کی نظر ہو جاتی ہے۔

شہید عباس علی کے قریبی دوستوں و رشتہ داروں کے  مطابق آرمی پبلک سکول پشاور کے واقعے کے بعد شہید عباس علی مضطرب و بے چین ہو کر کہتے تھے کہ کاش میں آرمی پبلک سکول میں موجود ہوتا اور معصوم بچوں پر حملے کرنے والے خارجی درندوں طالبان کو سبق سکھاتا کیونکہ میں نے مظلوموں کی حمایت اور ظالموں کے خلاف لڑنے کا سبق سید الشہدا امام حسینؑ سے حاصل کیا  ہے جس طرح امام حسینؑ نے یزید اور یزیدیت کو تاقیامت نیست و نابود کردیا اسی طرح میں (عباس علی، یاد رہے عباس شیر خدا کے شیر فرزند اور سید الشہدا امام حسینؑ کے بہادر بھائی و علمدار کربلا کا نام ہے جن کے نام کے طفیل شجاعت پہچانی جاتی ہے،شہید عباس علی کے والدین نے بھی عباس علی نام رکھ کر تربیت اولاد کا حق ادا کیا تھا) بھی اس دور کے یزیدیوں خوارج نما طالبان دہشت گردوں کو سبق سکھاتا۔جس طرح کہا جاتا ہے کہ مظلوموں کی آہ براہ راست عرش تک پہنچ جاتی ہے اسلئے شاید اللہ نے شہید عباس علی کی اس خواہش و دعا کو پورا کرکے عباس علی کے ہاتھوں امامیہ مسجد حیات آباد پشاور میں چلتی گولیوں اور فائرنگ کے باوجود وقت کے ایک یزید صفت دہشت گرد کو جہنم واصل کرکے خود جام شہادت نوش کرنے کا موقع فراہم کیا۔

بقول شاعر:
مثل شبیرؑ جو پیام عمل دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔ایسے ہی لوگ زمانے کو بدل دیتے ہیں


٭نوٹ :  سحر عالمی نیٹ ورک کا مقالہ نگار کے خیالات سے متفق  ہونا ضروری نہیں-

Feb ۱۳, ۲۰۱۶ ۰۶:۴۷ UTC
کمنٹس