ہندوستان: تسلیمہ نسرین کا مدارس سے متعلق بیان قابل مذمت، حکومت اس کا نوٹس لے، مسلم پرسنل لا بورڈ
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (اے آئی ایم پی ایل بی) نے مدارس کے بارے میں بنگلہ دیشی مصنفہ تسلیمہ نسرین کے حالیہ تبصروں کی مذمت کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے اس سلسلے میں نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔
سحرنیوز/ہندوستان: میڈیا ذرائع کی رپورٹ کے مطابق آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے مدارس سے متعلق تسلیمہ نسرین کے حالیہ تبصروں کی مذمت کی ہے اور مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تسلیمہ نسرین کے اشتعال انگیز بیانات کا نوٹس لے۔
پرسنل لا بورڈ نے حکومت ہند سے یہ بھی اپیل کی ہے کہ وہ غیر ملکی پناہ گزینوں کو ہندوستان کے داخلی اور مذہبی معاملات میں مداخلت سے روکے اور ملک کے آئینی و سماجی تانے بانے کو نفرت پر مبنی سیاست سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔
تسلیمہ نسرین نے گزشتہ اتوار کو کہا تھا کہ مدارس کا وجود نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے الزام لگایا تھا کہ کچھ مدارس 'جہادی' تیار کر رہے ہیں اور وہاں بچوں سے زیادتی کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔
مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے ایک بیان میں کہا کہ مدارس پر دہشت گردی کو فروغ دینے یا جہادیوں کو تیار کرنے کے الزامات مکمل طور پر بے بنیاد، گمراہ کن اور بدنیتی پر مبنی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کے الزامات سے نہ صرف کروڑوں ہندوستانی مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہیں بلکہ یہ ملک کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بھی نقصان پہنچانے کی ایک کوشش ہے۔
قاسم رسول الیاس نے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ ہندوستان میں پناہ لینے والا ایک غیر ملکی شہری ملک میں مذہبی، آئینی اور سماجی مسائل پر اشتعال انگیز تبصرے کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزادی اظہار کے نام پر کسی کو مذہبی اداروں کو بدنام کرنے، نفرت پھیلانے یا ہندوستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel