ہندوستان: دہلی میں جہاں جہاں دلت اور مسلم ووٹروں کی تعداد اچھی خاصی ہے، وہاں سب سے زیادہ نام حذف ہو رہے ہیں۔  
https://urdu.sahartv.ir/news/india-i456030-ہندوستان_دہلی_میں_جہاں_جہاں_دلت_اور_مسلم_ووٹروں_کی_تعداد_اچھی_خاصی_ہے_وہاں_سب_سے_زیادہ_نام_حذف_ہو_رہے_ہیں
دہلی میں 31 اگست کو جاری ہونے والی ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں 47 لاکھ 56 ہزار 722 ووٹروں کے نام شامل نہیں ہیں۔
(last modified 2026-09-09T14:27:04+00:00 )
Sep ۰۲, ۲۰۲۶ ۱۶:۳۹ Asia/Tehran
  • ہندوستان: دہلی میں جہاں جہاں دلت اور مسلم ووٹروں کی تعداد اچھی خاصی ہے، وہاں سب سے زیادہ نام حذف ہو رہے ہیں۔  

دہلی میں 31 اگست کو جاری ہونے والی ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں 47 لاکھ 56 ہزار 722 ووٹروں کے نام شامل نہیں ہیں۔

سحرنیوز/ہندوستان: میڈیا ذرائع کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہندوستان کے دارالحکومت دہلی کی ’ڈرافٹ ووٹر لسٹ‘ کے مطابق بڑی تعداد میں لوگوں کے نام کٹنے والے ہیں۔ 31 اگست کو ’خصوصی گہری نظرثانی‘ (ایس آئی آر) کے بعد جاری ڈرافٹ ووٹر لسٹ میں 47 لاکھ 56 ہزار 722 ووٹروں کے نام شامل نہیں ہیں۔

دہلی میں مجموعی طور پر 1 کروڑ 45 لاکھ 10 ہزار 299 رجسٹرڈ ووٹر ہیں۔ یعنی تقریباً 3 میں سے ایک ووٹر کا نام ڈرافٹ لسٹ میں نہیں ہے۔ دہلی اسمبلی سیٹوں میں جہاں دلتوں اور مسلمانوں کا ووٹ زیادہ ہے، وہاں کافی تعداد میں ووٹر ڈرافٹ لسٹ سے باہر ہیں۔ خصوصاً ایس سی ریزرو سیٹوں پر نام نہیں ملنے والے ووٹروں کی تعداد زیادہ ہے حالانکہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان سبھی لوگوں کے نام حتمی طور پر ووٹر لسٹ سے کٹ گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق جن لوگوں کے نام ڈرافٹ لسٹ میں نہیں ہیں، انہیں 31 اگست سے 30 ستمبر تک دعویٰ اور اعتراض داخل کرنے کا موقع دیا گیا ہے۔ جانچ کے بعد صحیح ثابت ہونے والے نام حتمی لسٹ میں شامل کیے جا سکتے ہیں۔ ایس آئی آر کی فائنل ووٹر لسٹ 4 نومبر کو جاری ہونی ہے۔

مسلم اکثریتی سیٹوں میں کچھ سیٹوں پر دہلی کے اوسط 32 اعشاریہ 7 فیصد سے زیادہ ووٹر ڈرافٹ لسٹ میں نہیں ہیں۔ سب سے زیادہ کمی اوکھلا سیٹ پر ہے، جہاں 45 اعشاریہ 3 فیصد ووٹر، ڈرافٹ لسٹ میں شامل نہیں ہیں۔ اس کے بعد چاندنی چوک میں 38 اعشاریہ 9 فیصد ووٹروں کا نام ڈرافٹ لسٹ میں شامل نہیں ہے۔ ان دونوں سیٹوں پر ووٹروں کے باہر ہونے کی تعداد دہلی کے اوسط سے زیادہ ہے۔

ہمیں فالو کریں:

Follow us: FacebookXinstagram, tiktok  whatsapp channel