ایران- پاکستان مشترکہ اقتصادی و تجارتی کمیشن کا اجلاس،سرحدی لین دین میں اضافے پر غور
ایران پاکستان مشترکہ اقتصادی و تجارتی کمیشن کا دسواں اجلاس صوبہ سیستان و بلوچستان کے مرکز زاہدان میں شروع گیا ہے جس میں دوطرفہ سرحدی تجارت کے فروغ کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
سحرنیوز/ایران: سیستان و بلوچستان گورنریٹ کے اقتصادی امور اور علاقائی ترقی کے ڈپٹی کوآرڈینیٹر اور اسلامی جمہوریہ ایران کے وفد کے رکن مجیب حسنی نے ارنا کو انٹریو دیتے ہوئے کہا کہ ایران پاکستان مشترکہ اقتصادی و تجارتی کمیشن کے اجلاس میں تجارت اور زراعت، نقل و حمل، سرمایہ کاری، ITI اور بینکنگ سے متعلق چار خصوصی کمیٹیوں نے اپنا کام شروع کردیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر داخلہ اور سیستان و بلوچستان کے گورنر کے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران طے پانے والے مفاہمت پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔
ایرانی وفد کے رکن کا کہنا تھا کہ مذکورہ مفاہمت نامے میں دنوں ملکوں کے درمیان تجارت کا حجم 2 ہزار ٹرک سے تک پہنچانے پر اتفاق کیا گیا تھا اور اس کے نفاذ کے لیے دونوں ممالک کے درمیان ایگزیکٹو کوآرڈینیشن کی ضرورت ہے۔
مجیب حسنی نے کہا کہ تجارت کے حجم میں اضافے کے ساتھ ساتھ میرجاوہ، کوہک، پشین اور ریمدان کی سرحدوں کے درمیان تجارت کی متوازن تقسیم بھی صوبے کے لیے اہم ہے۔ کیونکہ ایک یا دو کراسنگ پوائنٹس پر ٹریفک کو مرکوز ہونے سے وقت اور اخراجات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مشترکہ اقتصادی و تجارتی کمیشن کے اجلاس میں اسلامی جمہوریہ ایران نے ایک بار پھر گوشت اور چاول سمیت ضروری اور خراب ہونے والے اشیا کے حامل ٹرکوں کے لیے ایک مخصوص لین بنانے کی تجویز پیش کی ہے۔
حسنی نے مزید کہا کہ پاکستانی فریق نے ابھی تک اس تجویز کو عملی جامہ پہنانے پر رضامندی ظاہر نہیں کی ہے لیکن یہ معاملے مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل ہے اور امید ہے کہ اس بارے میں کوئی فیصلہ کرلیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اگر ان تجاویز کو خصوصی کمیٹیوں میں حتمی شکل دی جائے تو ایران اور پاکستان کے درمیان تجارت مشترکہ سرحدوں کی حقیقی گنجائش کے مطابق پہنچائی جاسکتی ہے۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel