Dec ۰۸, ۲۰۲۰ ۰۶:۳۶ Asia/Tehran

سعودی عرب نے بحرین سیکورٹی اجلاس میں اسرائیلی وزیر خارجہ کی موجودگی میں اسرائیل کی شدید تنقید کی۔

بحرین سیکورٹی کانفرنس میں سعودی شہزادے اور سابق انٹلیجنس چیف ترکی الفیصل نے کہا کہ فلسطینیوں کو ان کا آزاد ملک حاصل کرنے میں مدد کرنے کے لئے بھی معمولی معاہدے کی ض‍رورت ہے۔

ترکی الفیصل نے اسرائیل کو مغرب کی نوآبادیاتی طاقت قرار دیا اور کہا کہ اسرائیل نے فلسطینیوں کو حراستی کیمپوں میں شدید الزامات کے تحت قید کر رکھا ہے اور جوان، بوڑھے اور خواتین، وہاں انصاف کے بغیر پڑے سڑ رہے ہیں۔

ترکی الفیصل نے کہا کہ تل ابیب اپنی من مانی کرتے ہوئے فلسطینیوں کے گھروں کو مسمار کر رہا ہے اور جسے چاہے قتل کر دیتا ہے۔

ترکی الفیصل دو عشروں تک سعودی عرب کے خفیہ شعبے کے چیف رہ چکے ہیں، اس وقت ان کے پاس کوئی حکومتی عہدہ نہیں ہے تاہم ان کے بیان کے بارے میں یہ عام فکر ہے کہ اسے سعودی عرب کی حکومت کا گرین سگنل حاصل ہے۔

ترکی الفیصل کا بیان ایسی حالت میں سامنے آیا ہے کہ جب بحرین اور متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کر لیا ہے اور یہ معاہدہ یقینی طور پر سعودی عرب کے اشارے پر کیا گیا ہے۔

اس سے پہلے اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو اور موساد کے سربراہ یوسی کوہن سعودی عرب کا خفیہ دورہ کر چکے ہیں جہاں انہوں نے ولیعہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی ۔

بحرین کی میزبانی میں ہونے والے اجلاس میں ترکی الفیصل کے بیان کے بعد صیہونی وزیر خارجہ اشکنازی نے کہا کہ میں سعودی نمائندے کے بیان پر افسوس کا اظہار کرتا ہوں۔

 

ٹیگس