غزہ میں خوفناک واقعہ، معصوم اسکولی بچے کے ہاتھ پر اسرائیلی فوجی نے کی گولیوں کی بارش!
غزہ میں ایک دردناک واقعہ سامنے آیا ہے۔ ایک اسکول میں چھٹی جماعت کے طالب علم کے ہاتھ میں اسرائیلی فوج کی گولی پیوست ہوگئی ہے۔
سحرنیوز/عالم اسلام: فلسطین کی وزارتِ تعلیم کی رپورٹ کے مطابق غزہ شہر کے ایک اسکول میں بیٹھے چھٹی جماعت کے ایک طالب علم کے ہاتھ میں غاصب اسرائیلی فوج کی گولی پیوست ہوگئی۔
فلسطینی وزارتِ تعلیم نے بتایا ہے کہ غزہ شہر کے مغربی علاقے میں واقع السوافر اسکول میں چھٹی جماعت کے ایک طالب علم خالد الاشرم کے ہاتھ میں اسرائیلی گولی اس وقت پیوست ہو گئی جب وہ کلاس روم میں اپنی میز پر بیٹھا قلم سے کچھ لکھ رہا تھا۔
فلسطینی وزارتِ تعلیم نے بتایا کہ طالب علم اپنی کلاس میں میز پر بیٹھا قلم سے کچھ لکھ رہا تھا کہ ایک گولی اس کے ہاتھ کو چیرتی ہوئی کلائی میں جا کر پیوست ہو گئی۔ وزارتِ تعلیم نے اپنے بیان میں کہا کہ "بچے کے ننھے ہاتھ کو گولی نے اس وقت چیر دیا اور اس کی کلائی میں جا کر پیوست ہو گئی جب وہ کلاس میں بیٹھا ہاتھ میں قلم تھامے ہوئے تھا۔"
مذکورہ وزارت نے کہا کہ "یہ ایک ایسا المناک انسانی منظر ہے جو دل کو ہلا کر دیتا ہے اور معصومیت کا قتل کر دیتا ہے۔" وزارت نے بتایا کہ خالد الاشرم اسرائیلی براہِ راست فائرنگ کا نشانہ بنا، جس کا ہدف مغربی غزہ میں واقع السوافر اسکول تھا۔
وزارتِ تعلیم نے اس واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’’تعلیمی اداروں کو مسلسل نشانہ بنانا اور بچوں پر اس وقت حملہ کرنا جب وہ کلاس روم میں تعلیم حاصل کر رہے ہوں، ایک کثیرالجہتی جرم اور زندگی اور تعلیم کے حق پر کھلا حملہ ہے۔‘‘
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
قابل ذکر ہے کہ 10 اکتوبر 2025 کو جنگ بندی کا اعلان ہوگیا تھا لیکن اس کے باوجود غزہ میں اسرائیلی کارروائیاں جاری ہیں اور اسرائیلی فوج مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزی جاری رکھے ہوئے ہے۔