کیا آپ جانتے ہیں کہ فوجی اخراجات کے صرف تین فیصد حصہ سے دنیا میں بھوک اور قرض کا بحران ختم ہو سکتا ہے؟ آکسفام کا جی سیون ممالک سے مطالبہ
https://urdu.sahartv.ir/news/world-i434266-کیا_آپ_جانتے_ہیں_کہ_فوجی_اخراجات_کے_صرف_تین_فیصد_حصہ_سے_دنیا_میں_بھوک_اور_قرض_کا_بحران_ختم_ہو_سکتا_ہے_آکسفام_کا_جی_سیون_ممالک_سے_مطالبہ
برطانوی یونیورسٹی آکسفورڈ سے وابستہ فلاحی تنظیم آکسفام نے جی سیون کے رکن ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دنیا سے بھکمری کا خاتمہ کرنے کے لئے سنجیدہ تعاون کریں۔
(last modified 2026-08-16T07:55:59+00:00 )
Jun ۱۲, ۲۰۲۴ ۰۷:۱۷ Asia/Tehran
  • کیا آپ جانتے ہیں کہ فوجی اخراجات کے صرف تین فیصد حصہ سے دنیا میں بھوک اور قرض کا بحران ختم ہو سکتا ہے؟ آکسفام کا جی سیون ممالک سے مطالبہ

برطانوی یونیورسٹی آکسفورڈ سے وابستہ فلاحی تنظیم آکسفام نے جی سیون کے رکن ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دنیا سے بھکمری کا خاتمہ کرنے کے لئے سنجیدہ تعاون کریں۔

سحر نیوز/ دنیا: رویٹرز نیوز ایجنسی کے مطابق آکسفام نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں جی سیون ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ جمعرات کو اٹلی میں ہونے والے اپنے سالانہ سربراہی اجلاس سے قبل دنیا میں بھوک کے خاتمے کے لیے اپنے عطیات میں اضافہ کریں۔

آکسفام نے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ گروپ جی سیون کے فوجی اخراجات کے صرف تین فیصد حصے سے خوراک اور قرضوں کے عالمی بحران کو حل کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

 آکسفام نے کچھ اعداد و شمار دہتے ہوئے مزید کہا کہ دنیا میں بھوک کے خاتمے کے لیے سالانہ اکتیس ارب سات سو ملین ڈالر درکار ہیں جبکہ دنیا کے غریب ترین ممالک کے قرضوں کو کم کرنے میں جی سیون گروپ کا حصہ چار ارب ڈالر ہے جو کل ملا کر پینتیس ارب سات سو میلین ڈالر تک پہنچتا ہے۔

آکسفام کا کہنا ہے کہ یہ مقدار گزشتہ برس جی سیون گروپ کے فوجی اخراجات کے لئے مخصوص کی گئی رقم یعنی ایک ہزار دو سو ارب ڈالر کا صرف دو اعشاریہ نو فیصد بنتا ہے۔ آکسفورڈ کے مطابق جی سیون کے رکن ممالک اگر چاہیں تو وہ اپنے فوجی اخراجات کے صرف تین فیصد حصہ سے دنیا میں بھوک اور قرض کے بحران کو ختم کر سکتے ہیں۔