گورڈن براؤن: اسکولوں پر حملہ کرنے والوں کو کٹہرے میں کھڑا کیا جانا چاہیے
برطانیہ کے سابق وزیرِاعظم گورڈن براؤن نے ایران کے شہر میناب میں لڑکیوں کے پرائمری اسکول “شجرہ طیبه” پر امریکی حملے میں 168 طالبات کی شہادت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسکولوں اور تعلیمی اداروں پر حملہ کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔
سحرنیوز/دنیا: برطانوی اخبار کے مطابق اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے عالمی تعلیم گورڈن براؤن نے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ کسی بھی بچے کو جنگ کا “ضمنی نقصان” نہیں بننا چاہیے اور اسکولوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت اسپتالوں کی طرح خصوصی تحفظ حاصل ہونا چاہیے۔ ان کے بقول جو اسکول بچوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ ہونا چاہیے تھا وہ حملے کے بعد قبرستان بن گیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگوں میں تعلیمی ادارے اور طلبہ تیزی سے آسان ہدف بنتے جا رہے ہیں، حالانکہ بین الاقوامی قوانین اور عالمی فوجداری عدالت کے قواعد جنگ کے دوران بچوں اور تعلیمی مراکز پر حملوں کو ممنوع قرار دیتے ہیں۔
گورڈن براؤن نے یہ بھی کہا کہ ایسے حملوں کے ذمہ دار اکثر یہ کہہ کر بچنے کی کوشش کرتے ہیں کہ حملہ غیر ارادی تھا یا اسکول کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا، مگر یہ دلائل ذمہ داری سے بچنے کا جواز نہیں بن سکتے۔
انہوں نے تجویز دی کہ بچوں کے خلاف جنگی جرائم کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی عالمی عدالت قائم کی جائے اور اقوام متحدہ کے رکن ممالک بچوں کے تحفظ سے متعلق نگرانی کے نظام کو مؤثر طریقے سے نافذ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو رہنما ایسے حملوں کا حکم دیتے ہیں یا انہیں ہونے دیتے ہیں انہیں گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں لانا چاہیے۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel