یورپی ٹرائیکا کا ایران کے میزائل پروگرام کے خلاف شور شرابہ
یورپی یونین کی جانب سے ایٹمی معاہدے کے تحفظ کے تمام تر دعووں کے درمیان برطانیہ، فرانس اور جرمنی پر مشتمل یورپی ٹرائیکا نے ایران کے خلاف دھمکی آمیز رویہ اپناتے ہوئے ایران کے میزائیل ڈیفینس پروگرام کے خلاف شو شرابہ شروع کردیا ہے۔
یورپی ٹرائیکا کے ارکان، برطانیہ فرانس اور جرمنی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو ارسال کیے گئے ایک خط میں امریکی موقف کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ ایران کی جانب سے کیے جانے والے بعض میزائل تجربات سلامتی کونسل کی قرارداد بائیس اکتیس کے منافی ہیں۔ یورپی ٹرائیکا کے خط میں سیکریٹری جنرل اینٹونیوگوترش کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ایران کے میزائل پروگرام کے بارے میں اپنی اگلی رپورٹ میں ان میزائلوں کو سلامتی کونسل کی قرار داد بائیس اکتیس کے منافی قرار دیں۔یورپی ٹرائیکا نے اس سے پہلے بھی ایسا ہی دعوی کیا تھا لیکن سلامتی کونسل کو ایران کے خلاف بیان جاری کرنے پر قائل نہیں کرسکا تھا کیونکہ ان کا یہ دعوی قرارداد بائیس اکتیس کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف نے پورپی ٹرائیکا کے خط پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایٹمی معاہدے کو سمجھنے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ مصنوعی سیارے بھیجنے والے راکٹوں یا میزائل کے تجربات، سلامتی کونسل کی قرار داد بائیس اکتیس کے منافی نہیں ہیں۔ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ قرارداد بائیس اکتیس میں ایران کو صرف ایسے میزائیلوں کے تجربات سے منع کیا گیا ہے جو ایٹمی وار ہیڈز لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔حقیقت یہ ہے کہ یورپی ٹرائیکا کے خط میں اقوام متحدہ سے جو مطالبہ کیا گیا ہے وہ دراصل امریکہ کی ان بارہ شرائط میں سے ایک ہے جن کا اعلان امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے مئی دو ہزار اٹھارہ میں کیا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور پومپیو سمیت متعدد امریکی عہدیدار یورپی حکام کے ساتھ ملاقاتوں میں بھی ایران کے میزائل پروگرام کے بارے میں زہر افشانی کرتے ہوئے اسے روکنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔امریکہ کا دعوی ہے کہ جامع ایٹمی معاہدہ ایران کے ایٹمی پروگرام کو کنٹرول کرنے میں اور امریکی مفادات و خواہشات کی تکمیل میں ناکام رہا ہے اور تہران کے میزائل پروگرام اور علاقائی پالیسیوں پر روک لگانا سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔اب یورپی ٹرائیکا کے ارکان بھی ایٹمی معاہدے کے تحت کئے گئے وعدے پورے کرنے کے بجائے، بزعم خویش زیادہ سے زیادہ دباؤ کے ذریعے ایران کو ایٹمی معاہدے کی یکطرفہ پابندی کرتے رہنے پر مجبور کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں اور امریکہ کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے ایران کے میزائیل پروگرام کا شور مچانے میں مصروف ہیں۔