امریکہ میں داخلی دہشتگردی کا خطرہ
امریکہ میں سماجی اداروں کی تحقیقات سے پتہ چلتا ہےکہ انتہا پسندی اور داخلی دہشتگردی امریکہ کی سلامتی اور استحکام کے لئے بڑے خطرے میں تبدیل ہوگئی ہے۔
امریکہ کے شہر کلوراڈواسپرینگز میں ایک کلینیک پر ایک انتہا پسند کے حملے میں ایک بار پھر امریکہ میں داخلی دہشتگرد گروہوں کے پھلنے پھولنے کے خطرات سامنے آگئےہیں۔ امریکہ کی دائیں بازو کی ری پبلیکن پارٹی کے صدارتی امیدوار مایک ہابی نے کہا ہے کہ جمعے کو کلینیک پرحملے میں رابرٹ لوئیس ڈئیر نے جو اقدام کیا ہے وہ داخلی دہشتگردی ہے۔ امریکہ میں دونوں بڑی پارٹیوں کے صدارتی امیدواروں نے کلوراڈو اسپرینگز کی کلینیک پر ہونے والے حملے کو امریکہ میں انتہا پسندی کی علامت قراردیا ہے۔
امریکہ میں سماجی اداروں کی تحقیقات سے پتہ چلتا ہےکہ انتہا پسندی اور داخلی دہشتگردی امریکہ کی سلامتی اور استحکام کے لئے بڑے خطرے میں تبدیل ہوگئی ہے۔ مثال کے طور پر نیو امیریکن فاونڈیشن نے کچھ مہینوں قبل اعلان کیا تھا کہ دائیں بازو کے انتہا پسند عناصر امریکہ میں دہشتگردی کا سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ اس تحقیق میں میں سنہ دوہزار ایک میں گیارہ سمتبر کے بعد ہونے والے چھبیس دہشتگردانہ حملوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ دائیں بازو کی پارٹی سے وابستہ یا سفید فام انتہا پسندوں کے حملوں میں جو لوگ مارے گئے ہیں ان کی تعداد مسلمانوں کی طرف منسوب کئےجانے والے حملوں میں مارے جانے والےافراد سے دوگنا ہے۔ اسی طرح اس تحقیق سے پتہ چلتا ہےکہ چھبیس حملے جو اس مدت میں امریکہ میں کئے گئے ہیں ان میں انیس حملے غیر مسلم افراد نے کئے تھے۔
امریکہ میں داخلی انتہا پسندوں اور امریکی عیسائی دہشتگردوں میں مختلف طرح کے گروہ شامل ہیں جن کے اھداف بھی مختلف ہیں۔ ان میں سے بعض گروہ سفید فاموں کی برتری پر یقین رکھتے ہیں اور انہوں نے رنگین فاموں بالخصوص سیاہ فاموں پر حملہ کرنا اپنا نصب العین بنالیا ہے۔ بعض دیگر گروہوں کا کہنا ہے کہ امریکہ کی فیڈرل حکومت اپنے حدود و اختیارات سے تجاوز کرچکی ہے اور تشدد کے ساتھ حکومت کا مقابلہ کیا جانا چاہیے۔ ایک گروہ کا کہنا ہےکہ سماجی مسائل کو قتل و وحشت سے حل کیا جانا چاہیے۔ اس گروہ کی نظر میں ہم جنس پرستوں اور سقط جنین کامقابلہ کرنے کے لئے عام انسانوں کا قتل بھی جائز ہے۔
دوسری طرف سے کچھ ایسے گروہ بھی ہیں جنہیں ہم امریکی انتہا پسندوں میں شمار کرسکتے ہیں۔ ان گروہوں کو امریکی حکومت کی خارجہ پالیسی بالخصوص اس کی عالمی سطح پر سرگرمیوں پر شدید اعتراض ہے اور اقوام متحدہ میں اسکی رکنیت کو آئین کے برخلاف سمجھتے ہیں۔ اس درمیان اسلام مخالف اور یہودیت مخالف گروہ بھی امریکہ میں دہشتگردانہ اقدامات انجام دیتے دکھائی دیتے ہیں۔ گذشتہ تین دہائیوں میں اس گروہوں نے امریکہ میں بارہا دہشتگردی کا ارتکاب کیا تھا۔ امریکہ میں دائیں بازو سے وابستہ انتہا پسند گروہوں کے ہاتھوں ہونے والے سب سے بڑے دہشتگردانہ واقعے میں ایک سو اسی سے زائد لوگ مارے گئے تھے، یہ دہشتگردانہ واقعہ انیس سو پچانوے میں اوکلاھما سٹی میں ہوا تھا۔ اس کے بعد فیملی پلاننگ کی کلینیکوں اور ابارشن سنٹرز پرحملے کئے جانے لگے۔ شہرچارلسٹن میں سیاہ فاموں کے کلیسا پر کچھ انتہا پسند اور نسل پرست جوانوں کے حملوں میں کئی افراد مارے گئے تھے جو عبادت میں مشغول تھے۔
یہ ایسے عالم میں ہے کہ دوہزار ایک میں گیارہ ستمبر کے دہشتگردانہ واقعے کے بعد امریکی حکومت اور رائے عامہ نے بیرونی دہشتگردوں اور انتہا پسندوں یعنی نام نہاد مسلمانوں پر اپنی توجہ مرکوز کررکھی ہے۔ گذشتہ پندرہ برسوں میں امریکہ نے ان دہشتگردوں سے مقابلہ پر سیکڑوں ارب ڈالر خرچ کئے ہیں اور امریکی انٹلجنس ایجنسیوں میں بنیادی تبدیلیاں آئی ہیں۔ البتہ ان اقدامات نے گیارہ ستمبر جیسے بڑے واقعات کی روک تھام کی ہے لیکن تحقیقات کی اساس پر دائیں بازو کی عیسائی دہشتگرد گروہوں کے حملوں میں مارے جانے والے افراد کی تعداد نام نہاد مسلمان دہشتگردوں کے حملوں میں مارے جانے والوں کی تعداد سے دوگنی ہے۔ اس بات سے پتہ چلتا ہےکہ امریکہ نے یکساں طور پر دہشتگردی سے مقابلہ نہیں کیا ہے۔ اسی لئے عیسائی انتہا پسند گروہ بڑی آسانی سے امریکہ میں دہشتگردانہ کاروائیاں کرتے ہیں جبکہ امریکہ میں مسلمانوں کی چھوٹی سی چھوٹی سرگرمیوں پر دہشتگردی سے مقابلے کے بہانے امریکی سیکورٹی اور انٹلجنس فورسز کی نگاہ رہتی ہے۔