صیہونی حکومت کی جارحانہ پالیسیاں جاری
Dec ۰۵, ۲۰۱۵ ۱۳:۳۱ Asia/Tehran
صیہونی حکومت کی جارحانہ پالیسیاں جاری
صیہونی حکومت نے اپنے فوجی اور جارحانہ اقدامات کو جاری رکھتے ہوئے حالیہ دنوں میں فضائیہ اور بحری افواج کی مشقیں کی ہیں۔صیہونی حکومت کی فوجی نقل و حرکت کے ساتھ ساتھ صیہونی حکام نے توسیع پسندانہ پالیسیاں جاری رکھنے پر تاکید کی ہے۔ صیہونی حکومت کے بعض حکام نے حالیہ ہفتوں میں صراحت کے ساتھ غزہ پٹی پر دوبارہ قبضہ کرنے اور غرب اردن کومکمل طرح سے اپنے زیر تسلط لانے کی دھمکیاں دی ہیں۔ واضح رہے کہ صیہونی حکومت نے روان سال میں کئی مرتبہ جارحانہ فوجی مشقیں کی ہیں۔ ان فوجی مشقوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ صیہونی حکومت علاقے بالخصوص مقبوضہ فلسطین میں اپنی جارحانہ اور توسیع پسندانہ پالیسیوں میں شدت لانے کی تیاریاں کررہی ہے۔ صیہونی حکومت کی فوجی مشقیں ایسے حالات میں انجام پارہی ہیں کہ قدس کی غاصب حکومت نے فلسطینیوں کے خلاف اپنی تشدد آمیز کارروائیاں تیز کردی ہیں۔ واضح رہے صیہونی حکومت کے حالیہ حملوں میں ایک سو دس فلسطینی شہید اور سیکڑوں زخمی ہوچکے ہیں۔ صیہونی حکومت نے جارحانہ فوجی مشقوں کے بہانے مقبوضہ فلسطین کے علاقوں میں اپنی فوجی نقل و حرکت بڑھادی ہے اور جنگ کی تیاریاں کررہی ہے تا کہ علاقے میں اپنی تسلط پسندانہ اور تشدد آمیز پالیسیوں کو آگے بڑھانے کے لئے اپنے آپ کو عسکری لحاظ سے مزید مضبوط کرسکے۔
صیہونی حکومت کی کئی فوجی مشقوں کے بعد یہ غاصب حکومت علاقے میں نئے سرے سے جنگ کی آگ بھڑکانے کا ارادہ رکھتی ہے جسکی ماضی میں بھی مثالیں موجود ہیں گذشتہ برس غزہ پر پچاس روزہ جارحیت اور دوہزار نو میں بائیس روزہ جارحیت نیز دوہزار بارہ میں آٹھ روز جارحیت اسکی نمایاں مثالیں ہیں۔ صیہونی حکومت کے یہ جنگی اقدامات ایسے عالم میں ہیں کہ وہ ہمیشہ فلسطین اور لبنانی عوام کی استقامت سے خوفزدہ رہتی ہے اور بڑے بڑے بجٹ مختص کرکے اپنی فوجی توانائیوں میں اضافہ کی خواہاں ہے تا کہ اسے علاقے کی عوامی استقامت کے ہاتھوں مزید شکست نہ ہو۔
تجربوں سے پتہ چلتا ہے کہ صیہونی حکومت کے فوجی بجٹوں میں اضافہ اور اسکی وسیع فوجی مشقوں سے نہ صرف اس شکست خوردہ غاصب حکومت کو کسی طرح کی مدد نہیں ملی ہے بلکہ ان فوجی اخراجات سے وہ اقتصادی بحران کا شکار ہوگئی ہے اور صیہونی شہریوں نے اس کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے ہیں۔
اس کے علاوہ صیہونی حکومت کے فوجی اقدامات اور تشدد پسندی نے اس حکومت کو عالمی سطح پر پہلے سے زیادہ گوشہ گیر کردیا ہے اور اسے داخلی سطح پربھی عوام کے احتجاج کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ان امور سے صیہونی حکومت کو ہمیشہ کی طرح استقامت سے نقصان پہنچتا رہےگا اور اس غیر قانونی حکومت کی بنیادیں مزید متزلزل ہوتی گئی رہیں گی ۔ صیہونی حکومت جو داخلی اور خارجی سطح پر متعدد مشکلات سے دوچار ہوگئی ہےفوجی اقدامات اور اپنے مغربی حامیوں کے زیر سایہ متعدد فوجی مشقیں کرکے اپنی طاقت کا مظاہرہ کررہی ہے اور اس طرح داخلی اور عالمی سطح پر اپنی مشکلات سے رائے عامہ کی توجہ ہٹانا چاہتی ہے، اس کے علاوہ رعب و وحشت پھیلا کر علاقے میں اپنی توسیع طلبانہ پالیسیوں پر عمل کرنا چاہتی ہے۔
یہاں اس نکتے پر غور کرنا ضروری ہے کہ صیہونی حکومت کی فوجی مشقوں سے عملی میدان میں علاقائی عوام کی استقامت کے مقابل اس کی ناکامیوں کی صورتحال کو بدلنے میں کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ دراصل صیہونی حکومت کی فوجی نقل و حرکت سے اس تسلط پسند حکومت کی جنگجویانہ ماہیت کا اظہار ہوتا ہے اور رائے عامہ روز بروز اس کی جنگ پسندانہ ماہیت سے آگاہ ہوتی جارہی ہے اور یہ مسئلہ بھی صیہونی حکومت کے خلاف رائے عامہ کے بڑھتے ہوئے احتجاج کا سبب بنا ہے اور اسکے نتیجے میں قدس کی غاصب حکومت روز بروز عالمی سطح پر سیاسی تنہائی کا شکار ہوتی جارہی ہے۔