صیہونی حکومت کے جرائم کے نتائج کے بارے میں فلسطینیوں کا انتباہ
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i201862-صیہونی_حکومت_کے_جرائم_کے_نتائج_کے_بارے_میں_فلسطینیوں_کا_انتباہ
فلسطین کی وزارت خارجہ نے فلسطینیوں کے خلاف صیہونی حکومت کے جرائم کی مذمت کرتے ہوئے علاقے میں اس غاصب حکومت کی نسل پرستانہ پالیسی کے شدت اختیار کرجانے کے نتائج پر خبردار کیا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Dec ۱۴, ۲۰۱۵ ۱۲:۵۳ Asia/Tehran
  • صیہونی حکومت کے جرائم کے نتائج کے بارے میں فلسطینیوں کا انتباہ

فلسطین کی وزارت خارجہ نے فلسطینیوں کے خلاف صیہونی حکومت کے جرائم کی مذمت کرتے ہوئے علاقے میں اس غاصب حکومت کی نسل پرستانہ پالیسی کے شدت اختیار کرجانے کے نتائج پر خبردار کیا ہے۔

فلسطین کی وزارت خارجہ نے اتوار کے روز ایک بیان میں گذشتہ دو ماہ کے دوران فلسطینی علاقوں میں صیہونی حکومت کی توسیع پسندی اور غاصب صیہونیوں کے ہاتھوں فلسطینیوں کے جاری رہنے والے قتل عام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ غاصب صیہونی حکومت نے اپنی جارحانہ پالیسیوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے صوت حال کو ناقابل برداشت بنا دیا ہے۔ فلسطین کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں فلسطینی علاقوں خاص طور سے بیت المقدس میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے سے متعلق صیہونی حکومت کی پالیسی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے عالمی طاقتوں اور بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ، فلسطینی قوم کے بارے میں اپنی قانونی ذمہ داریوں پر عمل کریں اور اسرائیل کو علاقے میں نسل پرستانہ پالیسی جاری رکھنے سے روکیں۔فلسطین کی وزارت خارجہ نے فلسطینیوں کے حقوق کے بارے میں عالمی طاقتوں اور بین الاقوامی اداروں سے، ایسی حالت میں مطالبہ کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور امریکی وزیر خارجہ نے فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی جارحیت کی نئی لہر پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے، کہ جس کے مقابلے میں انتفاضۂ قدس شروع ہوئی ہے، صیہونی حکومت کے جرائم کی مذمت کئے بغیر، دونوں فریقوں کو صبر و تحمل سے کام لینے کی اپیل کی ہے۔ جبکہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے فلسطینیوں کی صیہونی مخالف استقامت کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے فلسطینیوں کے مقابلے میں اسرائیل کی جارحانہ پالیسیوں پر واشنگٹن کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے۔امریکی وزیر خارجہ نے گذشتہ ماہ مقبوضہ فلسطین کے اپنے دورے میں صیہونی فوجیوں اور صیہونی آبادکاروں کے جارحانہ حملوں کے مقابلے میں فلسطینیوں کی استقامت کو، ایسی حالت میں دہشت گردی قرار دیا ہے کہ یکم اکتوبر سے اب تک صیہونیوں کی جارحانہ کاروائیوں میں عورتوں اور بچّوں سمیت کم از کم ایک سو بیس فلسطینی شہید اور ہزاروں دیگر زخمی ہوچکے ہیں جبکہ سینکڑوں کی تعداد میں فلسطینیوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس مختصر سی مدّت میں اسرائیل کی کابینہ نے مقبوضہ علاقوں میں سینکڑوں کی تعداد میں نئے مکانات تعمیر کئے جانے جانے کے منصوبے کی منظوری بھی دیدی۔ ایسی صورت حال میں فلسطینی گروہوں نے، صیہونی حکومت کی جارحانہ پالیسیاں رکوانے کے لئے بڑی طاقتوں اور بین الاقوامی اداروں سے لو لگانے پر فلسطینی اتھارٹی سے وابستہ فلسطینی وزارت خارجہ کے اقدام پر کڑی تنقید کرتے ہوئے، تاکید کے ساتھ اعلان کیا ہے کہ فلسطینیوں کے مسائل کا خاتمہ کرنے کا واحد طریقہ، فلسطینی گروہوں میں اتحاد و مفاہمت ہے۔ جیساکہ فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ خالد مشعل نے گذشتہ ہفتے تاکید کی کہ فلسطینی امنگوں کو پورا کرنے اور صیہونی حکومت کی جارحانہ پالیسیوں کے مقابلے میں استقامت کا واحد طریقہ، قومی آشتی کے سمجھوتے کی بنیاد پر فلسطینی گروہوں کے درمیان اتحاد و یکجہتی کا قیام ہے۔ سات برسوں تک جاری رہنے والے اختلافات کے بعد فلسطینی گروہوں نے اپریل سن دو ہزار چودہ کو قومی آشتی کے ایک ایسے سمجھوتے پر دستخط کئے ہیں کہ جس کی بنیاد پر طے پایا ہے کہ اقتدار کی باگ ڈور، چھے ماہ تک متحدہ قومی حکومت سنبھالے گی اور اس کے بعد پارلیمانی انتخابات، قومی کونسل اور انتظامیہ کی سربراہی، عمل میں لائی جائے گی۔مگر فلسطین کی حکومت نے، کہ تحریک فتح اور فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ جس کے قریبی تعلقات ہیں، اب تک نہ صرف یہ کہ اس سمجھوتے پر عمل نہیں کیا بلکہ اس نے غرب اردن کے علاقے میں فلسطینیوں کی گرفتاریوں کا عمل جاری رکھ کر تمام فلسطینی گروہوں کو تشویش میں مبتلا بھی کردیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطینی گروہوں نے غرب اردن کے علاقے میں سیاسی طور پر سرگرم عمل فلسطینیوں کی گرفتاری کو قومی آشتی کے منصوبے پر عملدرآمد کی راہ میں اہم ترین رکاوٹ قرار دیا ہے۔