داعش کی تشکیل اور پس پردہ ممالک
داعش کو تشکیل اور مسلح کرنے والے ممالک نے پوری دنیا کے امن کو خطرے سے دوچار کردیا ہے
لندن میں ایک ریسرچ ٹیم نے اپنی تحقیقات میں ثابت کیا ہے کہ داعش نامی دہشتگرد گروہ نے جو نیم صنعتی یا سیمی انڈیسٹریل بم بنایا ہے اس میں بیس مختلف ممالک کا ہاتھ ہے ۔ یہ تحقیقات یورپی یونین کے کہنے پر انجام پائی ہیں ۔
لندن میں موجود ؛'مسلح جنگوں کی تحقیقات 'نامی اس ریسرچ ٹیم نے جمعرات کے دن اپنی تحقیقاتی رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ داعش کو کیبل، تاریں، کیمیائی مواد اور دیگر آلات فراہم کرنے والے ممالک کو مذکورہ اشیاء کی سپلائی میں احتیاط اور باریک بینی سےکام لینا چاہیئے اور اس پر کڑی نگرانی کرنی چاہیئے ۔ بیس مہینے تک جاری رہنے والی ان تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ داعش نے بم بنانے میں جو مواد اور پرزے استعمال کئے ہیں ان میں سات سو سے زيادہ ترکی ، برازيل اور امریکہ کی اکاون کمپنیوں کے ذریعے داعش کو سپلائی کئے گئے ہیں ۔ یہ مواد مذکورہ تین ممالک میں تیار کیا گیا ہے یا ان ممالک کی طرف سے فروخت کیا گیا ہے ۔
ان تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ترکی کی تیرہ مختلف کمپنیاں داعش کے بم بنانے کے عمل میں باہم ہم آہنگ ہوکرایک زنجیر کی صورت میں ملوث تھیں۔
اس ریسرچ ٹیم کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر جیمزبوان کے بیانات سے عالمی برادری کی اس تشویش میں اضافے کی بھی تائيد ہوتی ہے کہ عراق اور شام میں سرگرم داعش دہشتگرد گروہ اسٹریٹیجک ہتھیار اور ساز و سامان بنانے میں خود کفیل ہوچکے ہیں ۔ مسلح جنگوں کی تحقیقات نامی اس ریسرچ ٹیم کے نتائج نے ایک بار پھر رائے عامہ کو اس طرف متوجہ کردیا ہے کہ داعش دہشتگرد گروہ کو خاص اہداف کے لئے تشکیل اور مسلح کیا گیا ہے ۔
داعش اس وقت دنیا کا ایک انتہائی مسلح اور پر تشدد تر ین دہشتگرد گروہ ہے اور اس کا تنظیمی ڈھانچہ پیچیدہ ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی منصوبہ بند ہے ، اس دہشتگرد گروہ کے پاس وسیع مالی اور میڈيا کے ذرائع ہیں اور یہ انتہا پسندوں اور بنیاد پرستوں کو اپنی طرف راغب کرنے میں ماہر ہے ۔ نئے افراد کو بھرتی کرنے میں سماجی نیٹ ورک کو دی جانے والی آزادیاں بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں جس کے تحت بیس مختلف ممالک ایک سلسلہ وار طریقے سے داعش کو مسلح اور جدید ہتھیاروں سےلیس کررہے ہیں ۔
انٹرنیٹ کی مختلف ویب سائٹوں اور چینلوں کے ذریعے داعش دہشتگرد گروہ کو ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے مسلح اور لیس دکھایا جاتا ہے، جس سے ستر مختلف ممالک کے جنگجو داعش کی طرف راغب ہوئے اور اس وقت بھی کئی افراد اس گروہ میں شامل ہونے کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔
اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ شام اور عراق میں جاری داعش کی سرگرمیوں نے دنیا کے بعض ممالک کی بند اور رکی ہوئی اسلحہ ساز فیکٹریوں کو دوبارہ چلا دیا ہے ۔ شام اور عراق میں دہشتگردی میں ملوث داعشیوں کے ہاتھوں میں امریکی اور مغربی ممالک کے ہتھیار ہیں اور ان دہشتگردوں کے لئے نہ صرف انواع و اقسام کے ہتھیاروں تک پہنچ آسان ہے بلکہ جدید ہتھیاروں اور اس کی ٹیکنالوجی تک ان کی رسائی بھی ممکن ہے ۔ شام اور عراق میں داعش دہشتگردوں کے پاس ہتھیار بنانے کے حوالے سے ٹیکنالوجی، پرزہ جات اور اس کی سپلائی کا منظم اور زنجیروار نظام بھی موجود ہے اور وہ اس کی مدد سے بڑی آسانی سے تباہ کن سیمی انڈیسٹریل ہتھیار بنانے پر بھی قادر ہیں ۔
نئے افراد کی بھرتی اور فوجی طاقت و توانائی کے حوالے سے بھی داعش کی موجودہ صورتحال عالمی برادری اور امن عالم کے مستقبل کے لئے ایک سنجیدہ خطرہ اور تشویش شمار ہوتی ہے ۔ اگر داعش کے روزبروز بڑھتے ہوئے اس خطرے کو سنجیدہ نہ لیا گیا تو اس سے مستقبل میں انسانیت کو شدید تباہی و بربادی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ امریکہ ، ترکی اور سعودی عرب کی طرف سے داعش کو اپنے مفادات کے لئے مسلح اور جدید ہتھیاروں سے لیس کرنا پوری دنیا کے لئے ایک ناقابل تلافی نتائج کا حامل ہوسکتا ہے ۔ داعش کو ایک منظم اور ایک باقاعدہ سلسلہ وار طریقے سے مسلح کرنے کا نتیجہ صرف اور صرف بے گناہ انسانوں کے قتل عام اور دینا کے امن و صلح کو خطرات میں ڈالنے پر منتج ہوگا ۔