صیہونی بستیوں کی تعمیر بند کرانے کی کوشش
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i222385-صیہونی_بستیوں_کی_تعمیر_بند_کرانے_کی_کوشش
فلسطینی علاقوں میں صیہونی آبادکاری اور صیہونی بستیوں کی توسیع کا عمل بند کرانے کے لئے فلسطینیوں کے درمیان صلاح و مشورے کا عمل جاری ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Apr ۲۱, ۲۰۱۶ ۱۴:۴۸ Asia/Tehran
  • صیہونی بستیوں کی تعمیر بند کرانے کی کوشش

فلسطینی علاقوں میں صیہونی آبادکاری اور صیہونی بستیوں کی توسیع کا عمل بند کرانے کے لئے فلسطینیوں کے درمیان صلاح و مشورے کا عمل جاری ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فلسطینیوں کی جانب سے مقبوضہ علاقوں میں صیہونی بستیوں کی توسیع کے عمل کے خلاف ایک قرارداد کا مسودہ تیار کیا جا رہا ہے جسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کیا جائے گا۔ پی ایل او کی ایگزیکٹیو کمیٹی کے رکن نے کہا ہے کہ فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں صیہونی بستیوں کی تعمیر و توسیع کا عمل، علاقے میں قیام امن اور مسئلہ فلسطین کے حل میں رکاوٹ کا باعث بنا ہوا ہے۔ اس سے قبل اقوام متحدہ میں فلسطین کے مستقل مندوب ریاض منصور نے اس عالمی ادارے سے مطالبہ کیا تھا کہ صیہونی حکومت پر دباؤ ڈال کر فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں صیہونی بستیوں کی تعمیر و توسیع کا عمل فوری طور پر بند کرائے۔ بین الاقوامی قوانین کے مطابق فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں کسی بھی طرح کی صیہونی بستیوں کی تعمیر و توسیع کا عمل، غیر قانونی اور اقوام متحدہ کے منشور کے خلاف ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ فرانس نے فلسطین کی محدود خود مختار انتظامیہ سے کہا ہے کہ وہ مقبوضہ علاقوں میں صیہونی بستیوں کے قیام سے متعلق اسرائیل کے اقدام کی مذمت میں قرارداد کا مسوہ تیار کئے جانے کا عمل موخر کر دے۔ اس سلسلے میں ایک صیہونی اخبار نے بھی لکھا ہے کہ فرانس کا کہنا ہے کہ مقبوضہ علاقوں میں صیہونی بستیوں کے قیام سے متعلق اسرائیل کے اقدام کی مذمت میں فلسطین کی خود مختار انتظامیہ کی جانب سے قرارداد کا مسوہ تیار کئے جانے کے عمل سے مشرق وسطی کے امن مذاکرات کا دوبارہ آغاز کا مسئلہ کھٹائی میں پڑ سکتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ فلسطین کی خود مختار انتظامیہ اسرائیل کے خلاف قرارداد کے مسودہ میں سلامتی کونسل کے رکن ملکوں خاص طور سے فرانس سے مطالبہ کرے گی کہ وہ مقبوضہ علاقوں میں صیہونی بستیوں کی تعمیر و توسیع سے متعلق اسرائیل کے اقدام کے خلاف سخت عملی موقف اختیار کرے۔ ایک اور رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قرارداد کا یہ مسودہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے تمام اراکین کو پیش کر دیا گیا ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے حال ہی میں اسرائیلی مصنوعات کے خلاف تادیبی اقدامات عمل میں لا کر صیہونی حکومت کو فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں صیہونی بستیوں کی تعمیر و توسیع کے عمل سے باز رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ دوسری جانب عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل نے صیہونی حکومت کے جرائم کا جائزہ لینے کے لئے ایک عرب عدالت تشکیل دیئے جانے کی تجویز پیش کی ہے۔ عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل نبیل العربی نے جمعرات کے روز عرب لیگ کے ایک ہنگامی اجلاس میں جو مقبوضہ جولان کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لئے تشکیل پایا، صیہونی حکومت کے جرائم کا جائزہ لینے کے لئے ایک عرب عدالت تشکیل دیئے جانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انھوں نے کہا کہ صیہونی حکومت، صیہونی آبادکاری کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے اور وہ مسئلہ فلسطین کے حل کے لئے بین الاقوامی معاہدوں کی کوئی پرواہ نہیں کر رہی ہے۔ سن سڑسٹھ کے مقبوضہ علاقوں میں صیہونی حکومت کی جارحانہ پالیسیاں ایسی حالت میں نصف صدی میں داخل ہونے والی ہیں کہ اس غاصب حکومت نے مقبوضہ بیت المقدس اور مغربی کنارے کے علاقوں میں سو سے زائد صیہونی بستیوں کی تعمیر اور ان علاقوں میں دسیوں ہزار صیہونی مہاجروں کو بسا کر فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی اور غیر انسانی اقدام انجام دیا ہے۔ خاص طور سے ایسی حالت میں کہ صیہونی بستیوں کا قیام، فلسطینیوں کی اراضی پر قبضہ اور انھیں بے گھر کر کے عمل میں لایا جا رہا ہے۔