صیہونی حکومت کے وزیر جنگ کے استعفے کا پس منظر
دو ہزار چودہ میں غزہ کی پچاس روزہ جنگ میں غاصب صیہونی حکومت کی شکست کے بعد پیدا ہونے والا سیاسی بحران وسیع پہلو اختیار کر گیا۔
حالیہ برسوں کے دوران تحریک مزاحمت کے مقابلے میں صیہونی حکومت کی ناکامی کے نتیجے میں، کہ جس کی بناء پر یہ غاصب حکومت غزہ میں فائر بندی تسلیم کرنے پر مجبور بھی ہو گئی، صیہونی حکام میں اختلافات شدّت اختیار کر گئے اور بعض صیہونی حکام کو سیاسی اقتدار چھوڑنا پڑا ہے۔ اس سلسلے میں فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے صیہونی حکومت کے وزیر جنگ کے استعفے کو دو ہزار چودہ میں غزہ کی پچاس روزہ جنگ میں صیہونی حکومت کو حاصل ہونے والی شکست کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ حماس کے ایک رہنما فتحی حماد نے جمعے کے روز صیہونی حکومت کے وزیر جنگ موشہ یعالون کے استعفے پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ غزہ میں شکست، اس بات کا باعث بنی ہے کہ صیہونی حکومت کے دیگر عہدیداروں کی مانند اس حکومت کے وزیر جنگ بھی اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں۔ غزہ کی پچاس روزہ جنگ میں صیہونی کو سخت ہزیمت اٹھانے کے ساتھ ساتھ اس علاقے سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔ صیہونی حکومت کے مختلف عہدوں سے صیہونی حکام کے استعفے اور دیگر عہدیداروں کی تقرری کا نیا دور بھی غزہ کی پچاس روزہ جنگ میں صیہونی حکومت کی شکست کا ہی نتیجہ ہے جس کے تحت اب تک کئی صیہونی عہدیداروں کو تبدیل کیا جا چکا ہے۔ صیہونی حکومت کے حالات اس بناء پر بھی بحرانی بنے ہوئے ہیں کہ غزہ کی جنگ میں اس کی شکست کے اعتراف کے بعد اس حکومت کو اندرونی طور پر بہت زیادہ تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ صیہونی حکومت نے آٹھ جولائی دو ہزار چودہ کو غزہ پر اپنے جارحانہ حملے شروع کئے اور پچاس روز تک جارحیت جاری رہنے کے بعد چھّبیس اگست دو ہزار چودہ کو، فائر بندی کے اس سمجھوتے کے تحت، جو مصر کی کوششوں سے قاہرہ میں فلسطینی گروہوں کے ساتھ طے پایا، صیہونی حکومت، فلسطینی گروہوں کا قلع قمع یا انھیں غیرمسلح کرنے اور غزہ پر دوبارہ قبضہ کرنے کا اپنا کوئی بھی مقصد حاصل کئے بغیر، غزہ پر اپنے حملے روکنے پر مجبور ہو گئی۔ غاصب صیہونی حکومت کی موجودہ صورت حال، اس بات کی ترجمان ہے کہ غزہ میں ملنے والی شکست پر صیہونی حکام میں اختلافات شدّت کے ساتھ جاری ہیں اور اس غاصب حکومت کو شدید ترین سیاسی بحران کا سامنا ہے جس کے نتیجے میں مجبوری میں کابینہ میں تبدیلی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ابھی کچھ عرصے قبل صیہونی حکومت کے آڈیٹر جنرل نے غزہ پر پچاس روزہ جارحیت میں صیہونی حکومت کے وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو کی کارکردگی پر کڑی تنقید کی۔ یوسف شاپیرا نے اپنی رپورٹ میں غزہ کی پچاس روزہ جنگ کے دوران صیہونی حکومت کی جانب سے سیکورٹی کی سطح پر اختیار کئے جانے والے فیصلوں کے بارے میں لکھا ہے کہ اس جنگ میں اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو کی کارکردگی بہت زیادہ کمزور رہی ہے اور اس جنگ میں اسرائیل کو سخت نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ صیہونی حکومت کے ٹیلی ویژن نے بھی کچھ دنوں قبل غزہ کی پچاس روزہ جنگ کے بارے میں خصوصی رپورٹر کی رپورٹ کو سیاست کے میدان میں ایک ٹائم بم قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ساری باتیں اگر منظر عام پر آگئیں تو بحران برپا ہو جائے گا۔ فلسطینی علاقوں خاص طور سے غزہ پر صیہونی حکومت کے وحشیانہ حملوں کے باوجود یہ غاصب حکومت نہ صرف اپنا کوئی بھی مقصد حاصل نہیں کر سکی بلکہ اسے بری طرح سے شکست کا منھ بھی دیکھنا پڑا ہے کہ جس کے نتیجے میں صیہونی حکام میں شدید اختلافات پیدا ہو گئے ہیں اور صیہونی کابینہ کی چولیں تک ہل گئی ہیں۔