پارلیمنٹ انقلابی بنیادوں پر کام کرے: رہبر انقلاب اسلامی
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے دسویں پارلیمنٹ کے نومنتخب ارکان کو ہدایت کی ہے کہ وہ انقلابی بنیادوں پر کام کرے کیونکہ دشمنوں جن میں امریکہ سرفہرست ہے، کی دھمکیاں بدستور جاری ہیں۔
رہبر انقلاب اسلامی نے اتوار کے روز پارلیمنٹ کے ارکان اور اسپیکر سے ملاقات میں داخلی، علاقائی اور بین الاقوامی میدانوں میں پارلیمنٹ کے کام کی ترجیحات کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ مجلس شورائے اسلامی کو انقلابی ہونا چاہیے، انقلابی بنیادوں پر کام کرنا چاہیے، اسے امریکہ کے مخاصمانہ موقف پر ردعمل ظاہر کرنا چاہیے اور سامراج کی پالیسیوں کے سامنے ڈٹ جانا چاہیے۔
آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے مجلس شورائے اسلامی کو ایک انقلابی اور انقلاب کے نتیجے میں بننے والا ادارہ قرار دیا اور اس ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ آپ قانون سازی، اپنے فرائض پر عمل، اپنے بیانات اور موقف کے موقع پر انقلابی بنیادوں پر کام کریں۔
رہبر انقلاب اسلامی کی جانب سے مجلس شورائے اسلامی کے ارکان کو انقلابی ہونے، انقلابی رہنے اور انقلابی بنیادوں پر عمل کرنے کی ہدایت، اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف امریکہ کی مخاصمانہ پالیسیوں کے جاری رہنے کی وجہ سے ہے۔
مجلس شورائے اسلامی ایرانی عوام کے ووٹوں سے وجود میں آنے والا ادارہ ہے اور بروقت سوچا سمجھا سنجیدہ موقف اختیار کرنا اس کے ارکان کے فرائض میں شامل ہے کہ جو مختلف داخلی اور خارجی میدانوں میں ملکی مسائل کا جائزہ لیتے ہیں۔ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ایران کے ساتھ تسلط کے نظام کی دشمنی شروع ہو گئی جو اب تک جاری ہے۔ ان حالات میں ملک و قوم کے مفادات کے دفاع میں ایک عوامی اور قانون ساز ادارے کی حیثیت سے پارلیمنٹ کا اہم کردار ہے۔ اسلامی انقلاب کی مخالف سیاسی تحریکوں کے مقابل مجلس شورائے اسلامی کے ارکان کا ٹھوس اختیار کرنا، ایران کے انقلابی عوام کا مطالبہ ہے کہ جنھوں نے انقلاب کی تاریخ کے حساس میدانوں میں اپنی بروقت موجودگی سے نظام کی بنیادوں کو مستحکم بنایا۔
امریکی حکومت کی مخاصمانہ پالیسیوں اور طرزعمل کے جاری رہنے کے باوجود گزشتہ سینتیس برسوں کے بعد ایران کے اسلامی انقلاب کی ترقی ایرانی عوام کے انقلابی جذبے اور بھرپور آگاہی اور ہٹ دھرم طاقتوں کے مقابل استقامت و پائیداری کی بدولت ہے۔ اس قسم کی استقامت و پائیداری اور مضبوط جذبہ امریکی حکمرانوں کی گستاخی کے مقابل مجلس شورائے اسلامی میں بھی نظر آنا چاہیے۔ رہبر انقلاب اسلامی کی تعبیر کے مطابق سیاسی میدان میں دشمن، ردعمل کی بنیاد پر اندازے لگاتا ہے اور اگر وہ یہ محسوس کرے کہ مقابل فریق دفاعی پوزیش میں ہے اور پسپا ہونے والا ہے تو وہ پیچھے نہیں ہٹتا ہے اور مزید مطالبات کرتا ہے۔ مجلس شورائے اسلامی ملت کی بولتی ہوئی زبان ہے اور اس پلیٹ فارم سے کسی بھی موقف کا اعلان، اسلامی جمہوریہ ایران کے مفادات سے براہ راست تعلق رکھتا ہے۔
ایٹمی معاہدے سے پہلے اور اس کے بعد امریکی رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور امریکی حکومت، کانگرس اور آئندہ صدارتی امیدوار بدستور ایران کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔ اس مسئلے کو پیش نظر رکھتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے ارکان کو اسلامی انقلاب کی تعلیمات کی بنیاد پر امریکہ کی گستاخی کے مقابل خاموش نہیں رہنا چاہیے۔ اگر پارلیمنٹ انقلابی قانون ساز ادارے کے طور پر کام کرے تو وہ ایران کو دشمن کے ممکنہ حملوں کے مقابل مضبوط اور نقصان سے محفوظ بنا دے گی۔