افغانستان کے لئے امریکہ کا نیا منصوبہ
افغانستان میں امریکی فوج کے سینئر کمانڈر جنرل اسکیپ ڈیویس نے پیر کے دن کابل میں کہا تھا کہ امریکہ دوہزار بیس تک افغانستان میں امن قائم کرنے کا پرگرام رکھتا ہے۔
اس امریکی جنرل نے کہا کہ اس پروگرام کا بجٹ حاصل کرنے کےلئے امریکہ کو اپنے اتحادیوں کی مدد کی ضرورت ہے۔ اس منصوبے کے مطابق امریکہ اپنے اتحادیوں کی مدد سے کم از کم دوہزار بیس تک سالانہ پانچ ارب ڈالر جمع کرے گا تا کہ افغانستان میں قیام امن اور افغان سکیورٹی فورسز کی ٹریننگ پر خرچ کرسکے۔
یہ طے پایا ہے کہ طالبان کا مقابلہ کرکے افغانستان میں امن قائم کرنے کے مسئلے کا جائزہ نیٹو کے وارسا اجلاس میں لیا جائے گا۔
یادرہے نیٹو کے ممالک نے دوہزار بارہ میں اعلان کیا تھا کہ وہ افغانستان جنگ میں اپنی مالی امداد میں کمی لانا چاہتے ہیں۔ نیٹو کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان سے تدریجا اپنے فوجی نکالنا چاہتی ہے۔
امریکی حکومت نے کہا ہے کہ وہ اس بجٹ کے لئے ساڑھے تین ارب ڈالر فراہم کرےگی جبکہ خود افغانستان کی حکومت اپنے اندر سالانہ چار سو ملین ڈالر فراہم کرنے کی توانائی پاتی ہے۔
جنرل اسکیپ ڈیویس کے مطابق پنٹاگون کے اس نئے منصوبے میں افغانستان کی فوج اور پولیس فورس میں افراد کی تعداد بڑھا کرتین لاکھ باون ہزارکردی جائے گی۔ ایسا لگتا ہے کہ افغانستان کے سکیورٹی حالات سے واشنگٹن کی مایوسی نیز ملک کے مختلف علاقوں میں شدت پسند گروہوں بالخصوص طالبان اور داعش کے تشدد میں خاصہ اضافہ ہونے کے پیش نظرامریکہ افغانستان میں موجود رہنا چاہتا ہے اور امریکہ کے اس فیصلے میں اس کی مایوسی اور نیٹو کی اعلی قیادت نے اہم رول ادا کیا ہے۔
طالبان ملیشیا ایک عرصے سے افغانستان کی مرکزی حکومت اور نیٹو سے برسر پیکار ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ داعش کا افغانستان میں معرض وجود میں آنا امریکہ اور نیٹو کے حکام کے لئے شدید تشویش کا باعث بن چکا ہے یہ مسئلہ اس وجہ سے بھی تشویش کا سبب ہےکہ افغانستان مرکزی ایشیا کے بعض ملکوں جیسے تاجکستان اور ازبکستان سے ملا ہوا ہے اور اس بات کا خدشہ پایا جاتا ہےکہ کہیں ان ملکوں میں بھی انتہا پسندی اور دہشتگردی نہ پھیل جائے۔
نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے کچھ دنوں قبل اس مسئلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ نیٹو کی سکیورٹی افغانستان کی سکیورٹی سے جڑی ہوئی ہے۔ اس طرح ہرچند امریکہ اور نیٹو نے دوہزار چودہ میں افغانستان میں باضابطہ طور پر فوجی انخلا کا اعلان کردیا تھا لیکن افغانستان میں بڑھتی ہوئی بدامنی اورعدم استحکام، نیز انتہا پسند گروہوں کے اقدامات کو دیکھتے ہوئے نیٹو کے کچھ فوجی افغانستان میں باقی رہ گئے بالخصوص امریکہ نے جو نیٹو کا سربراہ ہے افغانستان میں اپنے کئی ہزار فوجی تعینات کررکھے ہیں۔
البتہ ان فوجیوں کی موجودگی کا سرکاری بہانہ افغانستان کی سکیوریٹی فورسز کو ٹریننگ دینا اور دیگر حمایتی اقدامات اور فوجی مدد دینا ہے ا سکے باوجود امریکی فوجی اس وقت افغانستان میں آپریشنل سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں اور افغان فوج کے ساتھ فوجی کارروائیوں میں شرکت کررہے ہیں۔
یاد رہے گذشتہ سولہ برسوں میں امریکہ اور نیٹو کی افواج نے امن قائم کرنے میں کوئی کامیابی حاصل نہیں کی ہے بلکہ بعض موقعوں پر حالات مزید بگڑے ہیں۔
افغانستان میں امریکہ اور اسکے اتحادیوں کی فوجی موجودگی سے ان کے فوجیوں پر حملوں، دہشتگردی میں اضافہ اور افغان عوام کے قتل عام نیز ویرانی اور تباہی کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوا ہے۔ اس کے علاوہ افغانستان میں نیٹو اور امریکہ کے فوجیوں کی موجودگی میں ہی منشیات کی پیداوار میں چالیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔
دوسری طرف افغانستان میں امریکہ اور نیٹو کے فوجیوں کی موجودگی کا ایک افسوسناک نتیجہ ان کی طرف سے افغانستان کے مختلف علاقوں پر زمینی اور فضائی حملے ہیں جو طالبان اور داعش کے مقابلے کے بہانے کئےجاتے ہیں۔ ان حملوں میں افغان قوم کو بھاری جانی اور مالی نقصان ہوتا ہے۔ اس کا ایک نمونہ شہر قندوز میں امریکی طیاروں کا ایک اسپتال پر حملہ تھا جس میں تیس عام شہری جاں بحق اور دسیوں زخمی ہوئے تھے۔ اس اسپتال کو ڈاکٹروں کی عالمی تنظیم نے بنایا تھا۔
واضح رہے افغانستان میں امریکہ اور نیٹو کی فوجی موجودگی بدستور طالبان اور داعش کے حملوں کا بہانہ بنی ہوئی ہے۔ طالبان اور داعش یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ اپنے ملک میں بیرونی افواج کے قبضے کے خلاف لڑ رہے ہیں۔
قابل ذکرہے کہ گذشتہ سولہ برسوں میں امریکہ اور نیٹو کی فوجی موجودگی کی وجہ سے افغانستان میں عملی طور سے دہشتگرد گروہوں کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے اور طالبان اور داعش نے بعض علاقوں پر اپنا قبضہ جما لیا ہے۔