طلبہ سے ملاقات میں رہبر انقلاب اسلامی کے بیانات
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i234844-طلبہ_سے_ملاقات_میں_رہبر_انقلاب_اسلامی_کے_بیانات
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے سنیچر کو طلبہ اور مختلف طلبہ تنظیموں کے نمائندوں سے ملاقات میں طلبہ کے مسائل و مشکلات اور اقتصادی و سیاسی سمیت دور حاضر کے مختلف مسائل کے موضوع پر گفتگو کی-
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Jul ۰۳, ۲۰۱۶ ۱۳:۰۴ Asia/Tehran
  • طلبہ سے ملاقات میں رہبر انقلاب اسلامی کے بیانات

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے سنیچر کو طلبہ اور مختلف طلبہ تنظیموں کے نمائندوں سے ملاقات میں طلبہ کے مسائل و مشکلات اور اقتصادی و سیاسی سمیت دور حاضر کے مختلف مسائل کے موضوع پر گفتگو کی-

اس ملاقات میں رہبر انقلاب اسلامی نےقرآن سے انس اور ایمان کے دو اہم عنصر پر تاکید کی اور اسی کو مختلف اور متنوع مسائل کے تجزیئے کی بنیاد قراردیا جو اس ملاقات میں پیش کئے گئے تھے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے سامراجی محاذ کے خلاف ملت ایران کی فیصلہ کن اور ناقابل اجتناب جد و جہد کی جانب اشارہ کیا اور فرمایا کہ اس جدو جہد کا آغاز اس وقت ہوا جب ملت ایران نے خود مختاری حاصل کرنے اور ترقی کرنے کا فیصلہ کیا کہ جو تسلط پسند عالمی طاقتوں کے مفادات کے منافی ہے-

رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے بیانات کے اس حصے میں دشمنوں کی سازشوں اور دباؤ کے مقابلے میں استقامت کے ایک اہم پہلو کی جانب اشارہ کیا ہے کہ جو انقلاب اسلامی کی کامیابی کے آغاز سے اب تک جاری ہے، تاہم اس تاکید کے ساتھ کہ آج دشمن کی سازشیں مزید پیچیدہ ہوگئ‏ی ہیں اور سافٹ وار کے میدانوں میں داخل ہو گئی ہیں-

واضح ہے کہ جب تک ملت ایران دشمنوں کے تسلط اور توسیع پسندی کے سامنے کھڑی رہے گی اس وقت تک یہ جد و جہد جاری رہے گی- اور اس جد و جہد کے خاتمے کے لئے جیسا کہ رہبر انقلاب اسلامی نے یاد دہانی کرائی صرف دو راستے ہیں اور وہ یہ کہ یا اسلامی جمہوریہ اتنا مضبوط و توانا ہو جائے کہ فریق مقابل میں جارحیت کی ہمت نہ ہو یا یہ کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنا اصلی تشخص کھو دے اور صرف اس کی بے روح ظاہری شکل باقی رہے -

آپ نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ اس جد و جہد کے اختتام کے لئے پہلے راستے تک پہنچنا یعنی ملت ایران کے مد نظر مکمل اقتدار کا حصول ہے فرمایا کہ البتہ شاید آج امریکی پالیسیوں کا تقاضہ ہو کہ وہ اسلامی نظام کے حکام کے درمیان جدائی کی قا‏ئل ہو اور انھیں اچھے اور برے حکام میں تقسیم کرے لیکن امریکیوں میں اگر توانائی پیدا ہو جائے تو ان کی نظر میں وہی اچھے حکام بھی برے ہو جائیں گے-

اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وسیع و عریض میدان میں جد و جہد کے لئے طاقت و مضبوط ایمان کی ضرورت ہے البتہ اس میدان میں بڑے مسائل و دشواریاں ہیں کہ جن کا دائرہ اقتصادی مشکلات سے لے کر فوجی خطرات تک پھیلا ہوا ہے- لہذا اس استقامت کی پہلی شرط اقتصادی بنیادوں کو مضبوط بنانا اور دفاعی طاقت کو بڑھانا ہے-

ان تمام میدانوں میں نوجوان خاص طور پر طلبہ ، اسلامی جمہوری نظام کی طاقت و استقامت کی بنیاد اور عظیم ذخیرہ شمار ہوتے ہیں- اس بنا پر ہی رہبر انقلاب اسلامی نے تاکید فرمائی کہ اگر آنکھیں کھلی نہ رکھی جائیں اور بصیرت موجود نہ ہوگی تو طلبہ دوست اور دشمن کی تشیخص یا علاقائی و بین الاقوامی مسائل کا تجزیہ کرنے اور اندازہ لگانے میں غلطی کر سکتے ہیں-

آپ نے تمام طلبہ کو دشمن کے ذرائع ابلاغ کے پروپیگنڈوں کو شک کی نگاہ سے دیکھنے کی نصحیت کی اور فرمایا کہ دشمن اپنے بھاری بھرکم اخراجات سے اسلامی نظام کے خلاف وسیع پیمانے پر پیچیدہ میڈیا مہم شروع کئے ہوئے ہے کہ جس کا اصلی مقصد اسلامی جمہوریہ کے مضبوط پہلؤوں کو چھپانا اور عوام و نوجوانوں کے درمیان مایوسی پیدا کرنے کے لئے بعض منفی پہلؤوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا ہے-

رہبر انقلاب اسلامی نے اس سلسلے میں اپنے بیانات میں مغرب سے ملت ایران کے ماضی کے تلخ تجربات کی جانب بھی اشارہ کیا-

جیسا کہ رہبر انقلاب اسلامی کے بیانات میں کہا گیا، پہلوی استبداد و آمریت کو مسلط کرنا ، انیس سو ترپن میں بغاوت کے ذریعے قومی حکومت کو گرانا، پابندیاں عائد کرنا، انقلاب مخالف گروہوں کی حمایت کرنا ، جنگ مسلط کرنا ، صدام حکومت کی حمایت کرنا اور مسافربردار طیارے کو مار گرانے سے لے کر مشترکہ جامع ایکشن پلان پر عمل درآمد میں وعدہ خلافیوں اور خلاف ورزیوں تک ، ایران کے خلاف مغرب بالخصوص امریکہ کی دشمنیوں کی پوری تاریخ موجو دہے-

ان تمام حقائق کے پییش نظر ہی رہبر انقلاب اسلامی نے تاکید فرمائی کہ اسلامی نظام اور اس کا تشخص ہی ملت ایران کے خلاف دشمنوں کا اصلی ہدف ہے- لہذا عقل کا تقاضہ ہے کہ ایسے دشمن سے عقل و تدبیر سے نمٹا جائے -

اس ملاقات میں رہبر انقلاب اسلامی کے نظریات اور ہدایات درحقیقت ملت ایران کے خلاف دشمنوں کی سازشوں کے سلسلے میں انتباہ ہے اور خاص طور سے سافٹ وار کے میدان میں دشمن کے خلاف جنگ میں ہوشیاری و تدبیر سے کام لینے پر تاکید ہے-