بعض اسلامی ملکوں کے سربراہوں سے صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی کی گفتگو
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i235294-بعض_اسلامی_ملکوں_کے_سربراہوں_سے_صدر_مملکت_ڈاکٹر_حسن_روحانی_کی_گفتگو
صدر جناب حسن روحانی نے کہا ہےکہ ایران اسلامی ملکوں سے تعلقات بڑھانے میں دلچسپی رکھتا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Jul ۰۶, ۲۰۱۶ ۱۱:۵۸ Asia/Tehran
  • بعض اسلامی ملکوں کے سربراہوں سے صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی کی گفتگو

صدر جناب حسن روحانی نے کہا ہےکہ ایران اسلامی ملکوں سے تعلقات بڑھانے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے بعض اسلامی ملکوں کے سربراہوں سے ٹیلفیونی گفتگو میں علاقائی تعاون کو علاقے میں سکیورٹی قائم رکھنے کا اہم عامل نیز دوستی اور تعلقات میں فروغ لانے کا سبب قراردیا۔

صدر جناب حسن روحانی نے منگل کو امیر قطر کے ساتھ ٹیلیفوں پر گفتگو میں عید فطر کی مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ ایران، اسلامی ملکوں کے ساتھ تعلقات بڑھانے میں دلچسپی رکھتا ہے، صدر مملکت نے کہا کہ اسلامی ملکوں کے برادرانہ تعاون سے سیاسی راہ حل کو غیر سیاسی راہوں کی جگہ پر لایا جاسکتا ہے اور ایران اس بات میں دلچسپی رکھتا ہے کہ تمام اسلامی ملکوں سے اس کے برادرانہ اور اچھے تعلقات ہوں۔ انہوں نے ترک صدر رجب طیب اردوغان، افغان صدر محمد اشرف غنی، اور عراق کے وزیر اعظم حیدرالعبادی سے ٹیلیفونی گفتگو میں کہا کہ دہشتگردی دنیا کے تمام ملکوں کے لئے ایک خطرہ اور مسئلہ ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے ترکی، افغانستان اور عراق کے سربراہوں کے ساتھ صلاح و مشورہ کرتے ہوئے کہا کہ عالمی دہشتگردی سے مقابلہ کرنے کے لئے تمام ملکوں کا ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا ضروری ہے۔ واضح رہے اسلامی امۃ اس سال ایسے عالم میں عید فطر منارہی ہے کہ اسلامی ملکوں پر بدستور بدامنی چھائی ہوئی ہے اور لوگ مر رہے ہیں۔ ان ہی چند دنوں میں بغداد اور مدینہ منورہ میں دہشتگردانہ بم دھماکے ہوئے ہیں اور بغداد کے علاقے الکرادہ میں دو بم دھماکوں میں ڈھائی سو افراد جاں بحق اور سیکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔ بڑھتی ہوئی دہشتگردی انسانیت کے لئے خطرہ شمار ہوتی ہے۔ ایسی لعنت سے مقابلہ کرنا سب لوگوں کے اجتماعی عزم اور مشترکہ تعاون کا متقاضی ہے تا کہ اس سے زیادہ عوام اس لعنت کی بھینٹ نہ چڑھیں۔

عالم اسلام کے موجودہ مسائل سے مقابلہ کرنے کے لئے ضروری اجتماعی عزم اور باہمی تعاون کا لازمہ ہے کہ اسلامی ملکوں میں اتحاد اور بھائی چارہ ہو اور دوستانہ تعلقات ہوں۔ اسلامی ملکوں پر تفرقہ پیدا کرنے والی سوچ کا سایہ مسلمانوں کے لئے نقصان دہ ہے اور ایسی صورتحال میں صرف اور صرف دشمنان اسلام کو فائدہ ہوگا۔

اسلامی ملکوں کے درمیان دوستانہ تعلقات میں استحکام لانا، بھرپور طرح سے دہشتگردی کا مقابلہ کرنے کےلئے ایک بنیادی اصل ہے اور اس اصل پر یقین رکھنے سے ہی عالم اسلام کو دہشتگردی کی لعنت سے چھٹکارہ مل سکتا ہے۔ اس بات میں کسی طرح کا شک نہیں ہے کہ اگر اسلامی جمہوریہ ایران، ترکی اور عراق سمیت اہم اسلامی ممالک باہم مشترکہ تعاون کریں تو وہ علاقے میں دہشتگردی کی بیخ کنی کرنے کے طاقت حاصل کرسکتے ہیں۔ ایران نے اسی اپروچ کے پیش نظر تمام اسلامی ملکوں سے دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے اور تعمیری تعاون کا سہارا لیتے ہوئے دہشتگردی کے خلاف جدوجہد کرنے والی قوموں کے ساتھ کھڑا ہے۔ صدر ڈاکٹر حسن روحانی کے مطابق مشکلات کو حل کرنے کے لئے علاقے اور دنیا کے ملکوں کے تعلقات پر اعتدال اور عقلیت پسندی کا سایہ ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقے اور دنیا میں قدم بہ قدم مشارکت کو مسابقت کی جگہ لینی چاہیے۔ غیر صحت مند مسابقت سے سکیورٹی اور استحکام نہیں حاصل ہوگا بلکہ جس چیز سے علاقے کے عوام کو سکیورٹی اور ترقی ملے گی وہ ملکوں کے تعلقات میں عقلیت پسندی کی روح کا حاکم ہونا اور انتہا پسندی سے دوری ہے۔