افغانستان متعدد مسائل کا شکار
افغانستان گروہی اور قومی اختلافات کے علاوہ سیکورٹی مسائل کا بھی شکار ہے۔
افغانستان کی قومی اتحاد کی حکومت کی جانب سے سکیورٹی اور سیاسی مسائل کو حل کرنے کی کوششوں کے باوجود ان شعبوں میں افغانستان کی صورتحال روز بروز پیچیدہ ہی ہوتی جارہی ہے۔ البتہ ان مسائل کو حل کرنے کےلئے قومی عزم و اتفاق اور علاقائی تعاون کی ضرورت ہے۔ افغانستان کی قومی اتحاد کی حکومت کی ایک بنیادی ذمہ داری انتخابات کے نظام کی اصلاح اور صدارتی سسٹم کو تبدیل کرکے پارلیمانی سسٹم لانا ہے۔ دو سال کا عرضہ گذرنے کے باوجود بھی افغانستان کی قومی اتحاد کی حکومت اس ذمہ داری کو پورا نہیں کرپائی ہے اور افغانستان کی پارلیمنٹ کی کاروائی جاری رکھنے کےلئے اس کی مدت میں توسیع کرنی پڑی۔ بعض حلقوں کا کہنا ہےکہ پارلیمنٹ کی مدت میں توسیع کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے۔
افغانستان کے چیف ایگزیکیٹو عبداللہ عبداللہ نے اعلان کیا ہے کہ پارلیمنٹ کے انتخابات اصلاحات کے بعد ہی انجام پائیں گے۔ انہوں نے زور دے کر کہا ہے کہ افغان حکومت ایک بنیادی کام یہ کرنا چاہتی وہ مکمل طرح سے اصلاحات انجام دینا اور بدعنوانیوں کا مقابلہ ہے، عبداللہ عبداللہ کے بقول پارلیمنٹ اور صوبائی کونسلوں کے الیکشن انتخاباتی نظام میں اصلاحات کے بعد ہی ممکن ہوسکیں گے۔ اگرچہ عالمی برادری نے حکومت افغانستان کے لئے اپنی امداد
جاری رکھنے کے لئے انتخابات کرانے اور کرپشن سے مقابلہ کرنے کی شرط لگائی تھی لیکن افغانستان کے الیکشن نظام میں اصلاحات قومی مفادات سے زیادہ ملکی و قومی مفادات سے زیادہ گروہی اور پارٹی اختلافات کے پیچ و خم میں گم ہوچکی ہیں۔ اسی وجہ سے افغان پارلیمنٹ نے انتخاباتی نظام کی اصلاح اور اس کی غرض سے کمیشن تشکیل دینے کے احکام کو مسترد کیا ہے بلکہ ایک بل کو منظور کرکے آرڈی ننس پاس کرنے کے صدر کے اختیارات کو محدود کردیا ہے۔ ان مسائل کے باوجود افغانستان کی قومی اتحاد کے حکام نے وارسا میں نیٹو کی حالیہ سربراہی نشست میں وعدہ کیا ہے کہ اپنے ملک میں انتخابات کے نظام میں اصلاح لانے کی زمین ہموار کریں گے نیز بدعنوانیوں سے بھی سخت مقابلہ کیا جائے گا۔
افغان پارلیمنٹ کی طرف سے انتخاباتی نظام میں اصلاحات لانے کے صدر اشرف غنی کے بل کے مسترد کئے جانے کے بعد افغاں سینیٹ نے کچھ اصلاحات کرکے اس بل کو منظوری دیدی ہے جس سے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں اور سیاسی گروہوں میں اختلافات میں مزید شدت آگئی۔ اسی بنا پر اس ہفتے پارلیمنٹ اور سینیٹ کی ایک مشترکہ کمیٹی بننے والی تھی لیکن یہ کمیٹی ابھی تک نہیں بن پائی ہے جس کی وجہ سے صدر افغان کا پیش کردہ بل کا مسودہ میزوں کی زنیت بنا ہوا ہے۔ ادھر افغان پارلیمنٹ کے اراکین انتخاباتی نظام کی اصلاح کرنے میں حکومت کے ساتھ تعاون نہیں کررہے ہیں اور انہوں نے قومی اتحاد کی حکومت کو اس کے ایک اہم ترین منصوبے پر عمل درامد میں ناکام بنادیا ہے جبکہ سکیورٹی بحرانوں نے افغانستان کے حالات کو مزید پیچیدہ بنادیا ہے۔ حکومت افغانستان کا کہنا ہےکہ اس کے تمام سکیورٹی مسائل کا سبب پاکستان ہے۔ کابل حکومت کا کہنا ہے کہ وہ گروہ جو انتخاباتی نظام میں اصلاحات لانے کے حکومت کے منصوبے میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں وہ دراصل پاکستانی حکومت کے منصوبوں پر عمل درآمد کرنے میں مدد کررہے ہیں اوراس سے افغانستان میں قیام امن کے عمل میں کوئی مدد نہیں مل رہی ہے۔ افغانستان کی وزارت خارجہ نے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ افغانستان میں قیام امن کے بارے میں چار فریقی نشستوں سے ساری دنیا پر واضح ہوگیا ہے کہ پاکستان دہشتگردی کا مقابلہ کرنے میں سچا نہیں ہے۔ افغان صدر اشرف غنی نے بھی وارسا میں نیٹو کے حالیہ سربراہی اجلاس میں کہا تھا کہ پاکستان کے علاوہ افغانستان کے تمام ہمسایہ ممالک ان کے ملک میں قیام امن کے عمل میں تعاون کررہے ہیں۔ افغان پارلیمنٹ نے اشرف غنی کے اس بیان کا خیر مقدم کیا ہے۔ ان حالات میں حکومت افغانستان کو یہ امید ہے کہ پارلیمنٹ حقیقت پسندی سے قومی مفادات کو گروہی مفادات پر ترجیح دے گی اور حکومت کو اپنے منصوبوں بالخصوص انتخاباتی نظام میں اصلاحات کرنے میں اپنا تعاون پیش کرے گی تا کہ حکومت کابل اطمینان اور قومی مصالحت کے سائے میں سکیورٹی بحرانوں سے مقابلہ کرسکے۔