اسلامی جمہوریہ ایران اور روس کا بڑھتا تعاون
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i239668-اسلامی_جمہوریہ_ایران_اور_روس_کا_بڑھتا_تعاون
اسلامی جمہوریہ ایران اور روس نے مختلف میدانوں میں تعاون بڑھانے کے لئے تفصیلی مذاکرات کئے ہیں۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Jul ۳۰, ۲۰۱۶ ۱۳:۱۱ Asia/Tehran
  • اسلامی جمہوریہ ایران اور روس کا بڑھتا تعاون

اسلامی جمہوریہ ایران اور روس نے مختلف میدانوں میں تعاون بڑھانے کے لئے تفصیلی مذاکرات کئے ہیں۔

 

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر مواصلات اور انفارمیشن ٹکنالوجی محمود واعظی نے ایک وفد کے ہمراہ آستاراخان اور ماسکو کا دورہ کیا ہے جہاں انہوں نے ایٹمی معاہدے کے بعد کی فضا میں اقتصادی اور دیگر میدانوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔ ان کے یہ دورے جمعے کے دن اختتام پذیر ہوئے۔ محمود واعظی کے وفد میں سرکاری عھدیدار اور نجی سیکٹر کے فعال افراد اور نمائندے شامل تھے جنہوں نے روس کے چار روزہ دورے میں اس ملک کے اعلی حکام کے ساتھ اقتصادی، صنعتی اور تجارتی تعاون بڑھانے کے بارے میں بات چیت کی۔ واعظی اور ان کا وفد منگل کو آستارا خان پہنچا۔ آستارا خان بحیرہ خزر کے ساحل پر روس کا ایک صوبہ ہے جہاں ایرانی وفد نے اس صوبے کے گورنر الیگزینڈر ژیلکین سے تجارتی، زرعی، اور سمندری راستوں نیز ٹرانسپورٹیشن کے بارے میں مذاکرات کئے اور ان مذاکرات پر عمل درآمد کے لئے سمجھوتے بھی ہوئے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر مواصلات اور انفارمیشن ٹکنالوجی اس کے بعد ماسکو گئے۔ ماسکو میں انہوں نے یوریشیا یونین کی وزیر تجارت ورونیکا نیکیشینا سے اس یونین کے ساتھ آزاد تجارت کے پیرائے میں ایران کی اقتصادی شراکت پر تبادلہ خیال کیا۔ محمود واعظی نے ماسکو میں روس کے وزیر مواصلات اور ذرائع ابلاغ نیکولائی نیکی فورو، وزیر صنعت و تجارت دنیس مانتوروف اور وزیر انرجی اور ایران و روس اقتصادی تعاون کمیشن کے روسی سربراہ الیگزینڈر نوواک اور روس کے وزیر زراعت الیگزینڈر تکاچوف سے ملاقاتیں اور مذاکرات کئے۔

ایران اور روس کے درمیان خلائی شعبے، ٹیلی مواصلات، سائبر نیٹ ورکس، خلائی سرگرمیوں کی ٹریننگ، صنعتی، اقتصادی، زرعی اور تیل و گیس کے شعبوں میں تعاون، بینکنگ کے شعبے میں موجود مشکلات کو دور کرنا، ایک دوسرے سے امپورٹ اور ایکسپورٹ کرنا، نیز دونوں ملکوں کے مشترکہ اقتصادی تعاون کمیشن کے آئندہ اجلاس کے بارے میں صلاح و مشورہ کرنا وہ امور تھے جن پر  محمود واعظی کے چار روزہ دورہ ماسکو میں مذاکرات انجام پائے۔ ماسکو میں روسی وزیر انرجی سے ملاقات ایرانی وزیر مواصلات اور انفارمیشن ٹکنالوجی کے اہم پروگراموں میں شامل تھا۔محمود واعظی ایران روس مشترکہ اقتصادی کمیشن کے ایرانی سربراہ ہیں۔  انہوں نے الیگزینڈر نوواک کے ساتھ سرمایہ کاری کی ضمانت نیز ویزا سسٹم میں آسانی کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ الیگزینڈر نوواک نے واعظی کے ساتھ ملاقات کرنے کے بعد کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں دونوں ملکوں کے درمیان مصنوعات کے تبادلے اور تجارت میں توسیع لانے کےلئے تدابیر اپنائی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری کی ضمانت فراہم کرنے اور تجارتی ویزا سسٹم میں آسانی لانے پر بھی سمجھوتے ہوئے۔ روس کے وزیر انرجی نے کہا کہ مجموعی طور پر خاصے اقدامات انجام پائے ہیں جن میں کسٹمز کے شعبے میں تعاون کے چند مفاہمتی نوٹ ہیں تاہم بینکنگ کے شعبے میں ابھی کام کرنا باقی ہے اور دونوں ملکوں کے بینکوں میں سرمائے میں اضافہ ہونا بھی ضروری ہے ۔ الیگزینڈر نوواک کے بقول اسلامی جمہوریہ ایران اور روس نے ماسکو مذاکرات میں آزاد تجارتی علاقے بنانے اور صنعتی تعاون بشمول تجارتی تعاون اور انرجی اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں تعاون بڑھانے کا نقشہ راہ تیار کرنے کا جائزہ لیا ہے۔ محمود واعظی نے الیگزینڈر نوواک سے ملاقات کرنے کےبعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ماسکو اور تہران کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور ثقافتی تعاون تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور روس کے صدور کے قریبی تعلقات دونوں ملکوں کے تعلقات میں فروغ لانے کےلئے بہترین بنیاد ثابت ہونگے۔ واعظی نے کہا کہ ایران اور روس کے مابین تعاون میں فروغ لانے کی غرض سے کسٹمز، ویزا سسٹم اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں سمجھوتھے ہوے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آزاد تجارت کی طرف جانے اور پنچ سالہ ترقیاتی منصوبوں کی تنظیم کے ھدف سے اہم منصوبوں کی نشاندھی کی گئی ہے۔ واضح رہے اسلامی جمہوریہ ایران اور روس کے اقتصادی تعلقات میں گذشتہ برس سے اچھی پیشرفت ہوئی ہے اور دونوں ممالک ایٹمی معاہدے کے بعد کی فضا میں بینکنگ اور کسٹمز نیز ویزا سسٹم اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں موجود رکاوٹوں کو ہٹا کر اپنے تعلقات و تعاون کو تیزی سے کئی گنا آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔