موصل کو آزاد کرانے کی کارروائیوں کو جلد شروع کرنے پر تاکید
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i239770-موصل_کو_آزاد_کرانے_کی_کارروائیوں_کو_جلد_شروع_کرنے_پر_تاکید
موصل سےنکلنے والے افراد کو داعش دہشتگرد تشدد کا نشانہ بنارہے ہیں
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Jul ۳۰, ۲۰۱۶ ۱۶:۱۹ Asia/Tehran
  • موصل کو آزاد کرانے کی کارروائیوں کو جلد شروع کرنے پر تاکید

موصل سےنکلنے والے افراد کو داعش دہشتگرد تشدد کا نشانہ بنارہے ہیں

 

عراقی فوج کی جانب سے اسٹریٹجیک شہر موصل کی آزادی کے لئےمکمل آمادگی کے موقع پر ریڈ کراس سوسائیٹی نے اس فوجی آپریشن کے نتیجے میں عام شہریوں کو پہنچنے والے ممکنہ خطرات سے خبردار کیا ہے۔

ریڈکراس سوسائیٹی نے داعش کی عراق میں آخری پناہ گاہ شہر موصل پر عراقی فوج کی کارروائی کے لئے مکمل تیاری کے موقع پر گذشتہ دن ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کارروائی کو شروع کرنے سے پہلے تمام ضروری اقدامات کی انجام دہی ضروری ہے۔ریڈکراس سوسائیٹی کے بیان میں مزید آیا ہے کہ فوجی کارروائی شروع ہونے کے بعد نینوا صوبے کی صورتحال کے بارے میں کسی قسم کی پیشین گوئی نہیں کی جاسکتی لیکن عراقی فوج اور ریڈ کراس سوسائٹی کو ہرطرح کی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لئےتیار رہنا چاہیے تا کہ عام شہری ان حملوں کا شکار نہ ہوں۔ اس سے پہلے بچوں کےعالمی ادارے یونیسیف نے بھی داعش کے عراق کے مختلف علاقوں پر قبضے کے وقت خبردار کیا تھا۔ یونیسیف نے عراق کے مختلف صوبوں منجملہ صوبہ صلاح الدین اور الانبار کے مختلف علاقوں پر داعش کے قبضے کے دو سال بعد بچوں پر ہونے والے مظالم کے بارے میں ایک رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ اس جارحیت کے نتیجے میں چھتیس لاکھ عراقی بچے موت، جنسی تشدد اور اغوا جیسے مسائل سے دوچار ہوئے ہیں۔

موصل سے موصولہ اطلاعات کے مطابق جب سے عراقی فورسز نے موصل کو آزاد کرانے کے لئے اپنی پوری آمادگی کا اظہار کیا ہے موصل سے لاکھوں افراد باہر نکلنے کی کوشش کررہے ہیں جسکی وجہ سے داعش دہشتگرد انہیں تشدد کا نشانہ بنارہے ہیں۔ موصل سے عام شہریوں کے انخلا پر تکفیری دہشتگرد گروہ داعش انتہا سخت رد عمل کا مظاہرہ کررہے ہیں ۔عراقی وزیر اعظم سمیت دیگر اعلی حکام نے موصل کو آزاد کرانے کی کارروائیوں کو جلد شروع کرنے پر تاکید کرتے ہوئے کہا ہےکہ ان کارروائیوں کے بعد داعش کے قبضے سے نہ صرف عراق کا باقی دس فیصد علاقہ آزاد ہوجائے گا بلکہ اس کے بعد عراق کے خلاف داعش کا خطرہ بھی کسی حد تک ختم ہوجائے گا۔ یاد رہے داعش دہشتگرد گروہ نے دوہزار چودہ میں عراق کے شمال مغربی علاقے پر قبضہ کیا تھا اور اس وقت سے لے کر اب تک اس دہشتگرد گروہ نے علاقے کے عوام پر ظلم و تشدد کے جو اقدامات کئے ہیں وہ ناقابل بیان ہیں۔

عراق کے ایک ایر بیس میں سترہ سو فوجیوں کا قتل عام، آثار قدیمہ کی تباہی، بے سہارا بچوں کو جنگ اور دہشتگردی کے لئے استعمال کرنا، ہزاروں ایزدی لڑکیوں اور خواتین کو گرفتار کرکے ان کی خریدو فروخت صرف چند جرائم ہیں جو تکفیری دہشتگرد گروہ داعش نے موصل اور اسکے ارد گرد کے علاقوں میں انجام دئے ہیں۔ اسی وجہ سے عراق کی حکومت اور فوج سے اس بات کی امید ہے کہ وہ موصل کی آزادی کی منصوبہ بندی کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کے تحفظ اور اس علاقے کو چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں پناہ لینے والے شہریوں کی حمایت کے حوالے سے بھی خصوصی انتظامات کرے گی تا کہ ان جنگی کارروائیوں میں عام شہریوں کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے۔ یہ اس لئے بھی ضروری ہےکہ بعض ممالک اور اداروں نے تکریت، الرمادی، اور دیگر علاقوں میں عراقی فوج کی کامیابی کے بعد ان پر طرح طرح کے جھوٹے الزام لگائے تاکہ دہشتگردوں کے مقابلے میں عراقی قوم ،حکومت اور فوج کی کامیابیوں کو عالمی برادری سے چھپاسکیں۔