افغانستان میں طالبان کے حملے
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i240082-افغانستان_میں_طالبان_کے_حملے
افغانستان میں طالبان نے ایسے عالم میں کابل میں ٹرک بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے جبکہ اس نے ہزارہ قوم کے مظاہرے میں داعش کے دہشتگردانہ بم دھماکے کی مذمت کی ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Aug ۰۱, ۲۰۱۶ ۱۱:۱۴ Asia/Tehran
  • افغانستان میں طالبان کے حملے

افغانستان میں طالبان نے ایسے عالم میں کابل میں ٹرک بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے جبکہ اس نے ہزارہ قوم کے مظاہرے میں داعش کے دہشتگردانہ بم دھماکے کی مذمت کی ہے۔

 

طالبان نے اعلان کیا ہےکہ یہ بم دھماکہ کابل میں ہوٹل نارتھ گیٹ کے پاس ایک فوجی چھاونی پر حملے کی غرض سے کیا گیا تھا اور اس میں چار مسلح حملہ آوروں نے شرکت کی تھی۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے طالبان کے ٹوئٹر اکاونٹ پرلکھا ہے کہ یہ حملہ بقول ان کے ایک سو جارحین کے ہلاک ہونے پر منتج ہوا ہے۔ قابل ذکر ہے ہزارہ قوم کے احتجاجی مظاہرے میں دہشتگرد گروہ داعش کے حملے میں اسی 80افراد جان بحق اور دوسو تیس زخمی ہوئے تھے۔ یہ پرامن احتجاج تحریک روشنائی کی کال پر ہورہا تھا، ہزارہ قوم بامیان کے بجائے سالنگ کے راستے سے ترکمنستان سے بجلی درآمد کرنے پر احتجاج کررہی تھی کہ داعش کے تکفیریوں نے اس کو دہشتگردی کانشانہ بنادیا۔

طالبان نے اپنے حملے جاری رکھتے ہوئے کابل میں

نارتھ گیٹ ہوٹل پر حملہ کیا ہے۔ افغان پولیس کے بقول اس حملے میں طالبان کے تین حملہ آور مارے گئے ہیں۔ یہاں جو بات قابل توجہ ہے یہ ہے کہ کابل میں ایسے عالم میں طالبان کے حملے جاری ہیں اور یہ گروہ بدامنی پھیلا کر عوام کو خوف و وحشت کا شکار بنا رہا ہے جبکہ اس گروہ کے ترجمان نے کابل میں داعش کے حملے کو ایک مجرمانہ کاروائی اور فتنہ کا نام دیا تھا۔ اسی بنا پر افغان عوام یہ اہم سوال اٹھا رہے ہیں کہ طالبان گروہ کونسی منطق و دلیل کے ساتھ  اپنے ہاتھوں عوام کے قتل عام کو داعش کے حملوں سے الگ کررہا ہے؟ اور اپنے خونریز حملوں کو قابل جواز اور قابل دفاع لیکن داعش کے حملوں کو مجرمانہ کارروائیاں اور فتنہ قراردے رہا ہے؟ یاد رہے عام شہریوں کاقتل عام کسی بھی بہانے اور جواز سے ہرگز قابل قبول نہیں ہے اور طالبان گروہ اس بہانے کے ساتھ کہ بیرونی افواج کو نشانہ بنا رہا ہے اور انہیں ملک سے نکالنے کے لئے حملے کررہا ہے اپنی مجرمانہ کارروائیوں کا کوئی جواز پیش نہیں کرسکتا۔

افغانستان میں سیاسی، قومی، اور مذہبی حلقوں کا کہنا ہے کہ طالبان کے حملوں سے نہ صرف داعش جیسے دہشتگرد گروہوں کو حملوں کا موقع ملتا ہے کہ بلکہ پشتون قوم میں طالبان کی ساکھ بھی خراب ہوتی ہے۔ طالبان گروہ جو کہ مذہب کا پابند ہونے اور افغانستان کے عوام کی مشکلات حل کرنے کا دعویدار ہے اسے چاہیے کہ وہ اسلام کی صحیح تعلیمات پر عمل پیرا ہوکر جوکہ بے گناہ نہتے عام شہریوں کے خلاف تشدد کے استعمال کو حرام قراردیتا ہے، ملک میں زیادہ سے زیادہ امن و سکیورٹی قائم کرنے کی کوشش کرے۔ افغانستان کے عوام یہ چاہتے ہیں کہ طالبان گروہ دہشتگردی کا مقابلہ کرنے کے لئے حکومت افغانستان کے ساتھ تعاون کرے۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ افغان عوام برسوں کی خانہ جنگی کے بعد اب اپنے ملک کو آباد اور آزاد کرانے نیز اپنے بچوں کے روشن مستقبل کی طرف قدم بڑھانا چاہتے ہیں۔ طالبان کی جانب سے عوام کے اس ھدف کے برخلاف کوئی بھی اقدام افغان معاشرے میں ان کی ساکھ کو پہلے سے زیادہ خراب کردے گا اور طالبان کو ان گروہوں کی فہرست میں شامل کردے گا کہ جن کے اقدامات کو وہ خود مجرمانہ اور فتنہ قراردیتا ہے۔