موصل کی آزادی کی تیاریاں مکمل
عراق کے شمال میں شہر موصل کی آزادی کے لئے کا روائیوں کے آغاز کے موقع پر عراق کے وزیر اعظم حیدر العبادی نے کہا ہے کہ ان کارروائیوں کو کامیابی کی منزلوں تک پہنچانے کے لئے عالمی برادری کی مدد کی ضرورت ہے۔ شمالی عراق میں شہر موصل تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کا سب سے بڑا اڈا سمجھا جاتا ہے۔
حیدر العبادی نے اتوار کو بغداد میں امریکہ کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے سربراہ جوزف ڈانفورڈ سے ملاقات میں اس بات کی تائید کی تھی کہ عراقی فورسز شمال میں صوبہ نینوا کے صدر مقام موصل کو آزاد کرانے کے لئے مکمل طرح سے تیار ہیں، انہوں نے کہا اس کے باوجود عالمی برادری کی حمایت اس آپریشن کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرے گی۔ عراقی وزیر اعظم نے کہا کہ ایسے عالم میں جبکہ عراق سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی لحاظ سے مسائل کا شکار ہے اسکے حق میں عالمی برادری کی حمایت سے تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کے مقابلے کا راستہ تیزی سے ہموار ہوجائے گا۔ واضح رہے عراق کے وزیر اعظم حیدرالعبادی نے ایسے عالم میں امریکہ کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے سربراہ سے ملاقات کی ہے کہ انہوں نے گذشتہ ماہ امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹر سے بھی ملاقات کی تھی جنہوں نے عراق کے سکیورٹی مسائل پرتبادلہ خیال کرنے کے لئے بغداد کا دورہ کیا تھا۔ گذشتہ ماہ امریکی وزیر دفاع کے دورہ بغداد کے بعد واشنگٹن نے دہشتگردی کے مقابلے کے بہانے عراق کے لئے سیکڑوں امریکی فوجی روانہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ امریکیوں کی اس تجویز کے سامنے آنے کے بعد عراق کی بہت سی شخصیتوں نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے بغداد سے کہا ہے کہ وہ عراق میں امریکی فوجی موجودگی کو بڑھانے کی واشنگٹن کی نئی سازش سے ہوشیار رہے۔ ہرچند بعض عراقی حکام نے کہا ہے کہ امریکی حکام کا دورہ بغداد دہشتگردی کے خلاف جاری مہم میں پیشرفت کا جائزہ لینے کے لئے انجام پایا ہے، البتہ عراق کی بہت سی شخصیتوں کا کہنا ہےکہ امریکی حکام کے دوروں کا ھدف عراق میں امریکی فوجی موجودگی بڑھانا اور داعش کے خلاف عراقی فورسز کو عنقریب حاصل ہونے والی کامیابیوں میں شریک ہونا ہے۔
عراقی شخصیتیں اس وجہ سے امریکہ کی نیت پر بدگمان ہیں کہ واشنگٹن دہشتگردوں کے خلاف عراق کی فوجی ضرورتوں سے آگاہ ہونے کے باوجود عراق کے خریدے ہوئے ہتھیار بھی عراق کو دینے کےلئے تیار نہیں ہے اور اس راہ میں رکاوٹیں کھڑی کررہا ہے۔ اس نظریے کے مطابق امریکہ نے دوہزار گیارہ میں عراق سے اپنے فوجی نکالنے کے بعد ہمیشہ یہ کوشش کی ہے کہ کسی نہ کسی طرح سے علاقے میں اپنی فوجی موجودگی کا جواز پیش کرتا رہے۔ اس مرتبہ امریکہ داعش دہشتگرد گروہ کو عراقی حکومت کے ساتھ سکیورٹی تعاون کو بہانہ بنا کر اس ملک اور علاقے میں فوجی لحاظ سے موجود رہنے کی کوشش کررہا ہے۔ ایسے حالات میں ایسا لگتا ہے عراقی حکام اپنے ملک کی حساس پوزیشن اور عراق میں بیرونی فوجیوں کی مداخلت کے ناکام تجربے سے فائدہ اٹھا کر داخلی فورسز اور خیرخواہ ملکوں پر بھروسہ کریں گے اور امریکہ کی سازشیں ناکام بناکر ہی دہشتگردی کے خلاف عالمی برادری سے اپنی فورسز کی حمایت کرنے کی اپیل کریں گے۔