برازیل اولمپیک کھیل اور چیلنج
برازیل کے دارالحکومت ریو ڈی جینیرو میں آئندہ جمعے سے اولمپیک کھیل شروع ہونے والے ہیں اور برازیل اولمپیکس کے منتظمین کے بقول ان کھیلوں کے اسی فیصد ٹکٹ بھی فروخت ہوچکے ہیں لیکن ان کھیلوں کے تعلق سے چیلنج بدستور برازیل حکام کی تشویش کا سبب بنے ہ
وئے ہیں۔
روسی کھلاڑیوں کی ڈوپینگ کے نتیجے میں پیش آنے والی رسوائی، اولمپیک ولیج کو موقع پر آمادہ کرنے میں مسائل، بعض مراکز میں آلودگی، زیکا وبا کے پھیلنے کا خطرہ، اور برازیل میں جاری سیاسی کشیدگی ایسے مسائل ہیں جن سے اس ملک کے حکام کو لاحق تشویش میں شدت آگئی ہے۔ اتوار کو جبکہ اولمپیک کھیلوں کے آغاز میں پانچ روز بچتے ہیں ہزاروں افراد نے برازیل کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کئے۔مظاہرین نے صدر دیلما روسف کے استعفی کا مطالبہ کیا۔ ان مظاہروں کے موقع پر صدر روسف کی حمایت میں بھی بعض شہروں میں محدود مظاہرے ہوئے۔ دیلما روسف پر ان کے مخالفین نے الزام لگائے ہیں کہ وہ متعدد جرائم منجملہ ملکی خزانے سے غلط فائدہ اٹھانے میں ملوث ہیں۔ اس کےعلاوہ انہوں نے عدل وانصاف فراہم کرنے میں رکاوٹیں کھڑی کی ہیں اور دوہزار چودہ میں فوٹبال ورلڈ کپ کے موقع پر فوٹبال بین الاقوامی فیڈریشن کو ٹیکس معافی دے کے قانونی کی خلاف ورزی کی ہے۔
لولا داسیلوا نے جو دوہزار دو سے دوہزار دس تک برازیل کے صدر تھے دیلما روسف کے اقتدار تک پہنچنے میں ان کی حمایت کی ہے۔ ان پر بھی ان کے مخالفین نے الزام لگایا ہے ہے کہ وہ سرکاری تیل کمپنی پٹرو براس میں بدعنوانی کے نیٹ ورک سے جڑے ہوئے تھے۔ برازیل اولمپیکس کے منتظمین کے سامنے ایک مسئلہ کھلاڑیوں اور تماشائیوں کی سکیورٹی کا بھی ہے۔ گذشتہ ایک سال میں شہر ریو ڈی جینیرو نے جرائم کے لحاظ سے ریکارڈ قائم کردیا ہے۔ شہر میں ہائی الرٹ کردیا گیا ہے اور پچاسی ہزار سکیورٹی اھلکار شہر میں ڈیوٹی پر لگادئے گئے ہیں۔ ادھر داعش اور القاعدہ دہشتگرد گروہوں نے بھی دھمکی دیدی ہے کہ وہ ریو ڈی جینیرو اولمپیک کھیلوں کےدوران حملے کریں گے۔ گذشتہ ہفتے کے دوران برازیل پولیس نے بارہ برازیلی شہریوں کو گرفتار کیا ہے جن پر داعش کے ساتھ تعاون کرنے کا شبہ ہے اور انہیں برازیل کے مختلف مقامات سے گرفتار کیا ہے۔ ادھر اتوار کو ریوڈی جینیرو میں ماراکانا اسٹیڈیم سے زبردست دھماکے کی آواز سنائی دی تھی یہ دھماکہ ایک مشکوک بنڈل کے دکھائی دینے اور اس کی جانچ پڑتال کے لئے ایک روبوٹ کو بھیجنے کےبعد ہوا۔ اس سے قبل ریو ڈی جینیرو کی بلدیہ نے نئے رہائشی مکانات اور ماڈرن ٹرانسپورٹیشن سسٹم کا وعدہ کیا تھا لیکن ابھی تک شہر ریو ڈی جینیرو کی میٹرو کی لائنیں استعمال کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ برازیل پر گذشتہ صدی سے اب تک کا مہیب اقتصادی بحران سایہ فگن ہے۔ برازیل نے اولمپیک کھیلوں کو ممکنہ دہشتگردانہ حملوں سے بچانے کے لئے اب تک تقریبا نو سو ملین ڈالر خرچ کئے ہیں اور یہ توقع کی جارہی ہے کہ پانچ لاکھ غیر ملکی ان کھیلوں کو دیکھنے برازیل آئیں گے۔ واضح سی بات ہے کہ مجموعی طور سے برازیل کی سیاسی، سکیورٹی اور اقتصادی صورتحال سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ برازیل کی حکومت شاید ہی بغیر کسی مسئلے کے ریوڈی جینیرو کے اولمپیک کھیل منعقد کرواسکے۔ اسی وجہ سے سروے رپورٹوں سے پتہ چلتا ہےکہ برازیل کی نصف آبادی اپنے ملک میں اولمپیک کھیلوں کے انعقاد سے ناراض ہے۔