حکومت عراق کے لئے الحشدالشعبی فورسز کی اہمیت
عراق میں عوامی رضاکار فورسز الحشدالشعبی سے استفادہ نہ کئے جانے کے بارے میں حکومت عراق پر غیر ملکی، خاص طور سے سعودی عرب اور امریکہ کے دباؤ کے باوجود حکومت بغداد نے الحشدالشعبی کے نئے ڈھانچے اور ان فورسز کا سیاسی مسائل سے کوئی سروکار نہ ہونے، ان کے غیرجانبدار اور قانون کا پابند ہونے کا اعلان کیا ہے تاکہ اس بات کو مزید واضح کیا جاسکے کہ وہ الحشدالشعبی فورسز سے استفادہ کرنے کی خواہاں ہے۔
عراق کے وزیر اعظم حیدرالعبادی نے اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت، الحشدالشعبی کا ڈھانچہ اس طرح سے بنانے کی کوشش کر رہی ہے کہ ان فورسز کی کارکردگی کو زیادہ سے زیادہ بہتر بنایا جاسکے اور ان کی مزید بہتر طریقے سے تربیت کی جاسکے۔ حکومت عراق نے جون دو ہزار چودہ میں اپنے ملک کے بہت سے علاقوں پر دہشت گرد گروہ، داعش کا قبضہ ہو جانے کا مشاہدہ کیا ہے جبکہ عراق کے ان علاقوں پر داعش کے قبضے میں اس نے اپنے ملک کی بعض سیاسی شخصیات کی غداری کا بھی نظارہ کیا تھا۔ جس کے بعد حکومت عراق نے جون دو ہزار چودہ میں الحشدالشعبی نام سے عوامی رضاکار فورس تشکیل دے کر دہشت گردی کے خلاف بھرپور مہم کا آغاز کیا۔ الحشدالشعبی، بیالیس سے زائد گروہوں پر مشتمل ہے اور داعش دہشت گرد گروہ کے مقابلے میں عراقی فوج کی کامیابی، الحشدالشعبی فورسز کی موجودگی اور ان کے بھرپور تعاون کے بغیر ممکن نہیں تھی۔ داعش دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں الحشدالشعبی فورسز کا موثر کردار ہی، اس بات کا باعث بنا کہ بیرونی ممالک خاص طور سے امریکہ اور سعودی عرب، ان عوامی رضاکار فورسز پر جارحیت، ڈکیتی اور فرقہ واریت پھیلانے جیسے الزامات عائد کر کے حکومت عراق کی جانب سے ان عوامی فورسز سے استفادہ نہ کئے جانے پر زور دیں۔ مگر حکومت عراق نے اس سلسلے میں پڑنے والے تمام تر دباؤ کے باوجود عوامی رضاکار فورسز الحشدالشعبی کا دفاع کیا۔ مخالفین کی جانب سے عراق کی عوامی رضاکار فورسز الحشدالشعبی پر ایسی حالت میں فرقہ وارانہ فکر رکھنے کا الزام عائد کیا گیا کہ دہشت گردوں کے خلاف بیشتر مہم، عراق کے سنّی آبادی کے علاقوں میں ہی انجام پائی۔ حالیہ دو برسوں کے دوران عراق میں جو صورت حال بنی رہی ہے اس میں چوری ڈکیتی اور دیگر خلاف ورزیوں کے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں مگر دہشت گردی کے خلاف مہم میں عوامی رضاکار فورسز الحشدالشعبی کی کارکردگی کو نظرانداز کرتے ہوئے خلاف ورزیوں کے پیش آنے والے واقعات کا ذمہ دار ان عوامی فورسز کو قرار دینا، دہشت گردی کے خلاف مہم میں حکومت عراق کو حاصل ہونے والی کامیابیوں کے مخالفین کی ناخوشی اور بوکھلاہٹ کی علامت ہے۔ حکومت بغداد نے اس بات کو سمجھتے ہوئے کہ الحشدالشعبی کی مخالفت کی اصل وجہ، ان عوامی فورسز کی کارکردگی نہیں بلکہ دہشت گردی کے مقابلے میں حکومت عراق کو حاصل ہونے والی کامیابی ہے، ان عوامی فورسز کے ڈھانچے کی تعمیرنو کو اپنی ترجیحات میں قرار دیا۔ حکومت عراق نے الحشدالشعبی کے ڈھانچے کی تعمیرنو کو قومی مفادات کے لئے ضروری قرار دیا۔ حکومت عراق نے تاکید کے ساتھ اعلان کیا ہے کہ الحشدالشعبی عوامی رضاکاروں پر مشتمل ایک ملک گیر تنظیم ہے جو مسلح افواج میں شامل اور براہ راست وزیر اعظم کی زیر نگرانی کام کرے گی تاکہ عراق کے فوجی ڈھانچے میں ان عوامی فورسز کے مقام کو مضبوط و مستحکم بنایا جاسکے۔