سی آئی اے کے سربراہ کے بیان پر ایران کا ردعمل
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i240346-سی_آئی_اے_کے_سربراہ_کے_بیان_پر_ایران_کا_ردعمل
اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے امریکہ کی جاسوسی تنظیم سی آئی اے کے سربراہ جان برنان کے ایران کے بارے میں حالیہ بیان کو بےجا اور مشکوک قرار دیا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Aug ۰۲, ۲۰۱۶ ۱۰:۴۷ Asia/Tehran
  • سی آئی اے کے سربراہ کے بیان پر ایران کا ردعمل

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے امریکہ کی جاسوسی تنظیم سی آئی اے کے سربراہ جان برنان کے ایران کے بارے میں حالیہ بیان کو بےجا اور مشکوک قرار دیا ہے۔

بہرام قاسمی نے پیر کے روز سی آئی اے کے سربراہ کے حالیہ بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہ جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان وسیع پیمانے پر بات چیت ہو رہی ہے، کہا کہ ایٹمی بات چیت کے علاوہ امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی اور بات چیت نہ تو ہو رہی تھی اور نہ ہی ہو رہی ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے یہ بات بیان کرتے ہوئے کہ برنان اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ ایران کے داخلی مسائل کے بارے میں بےربط اور بےجا اظہار خیال کر سکیں، کہا کہ امریکی حکام کے اس قسم کے بیانات ایرانی معاشرے میں اختلاف اور تفرقہ پیدا کرنے کے لیے دیے جا رہے ہیں اور یہ قابل مذمت ہیں۔

بہرام قاسمی نے ایران کی قوم اور حکومت کے درمیان اتحاد و یکجہتی کو علاقے اور دنیا میں ایک مثالی نمونہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام اس سے کہیں زیادہ ہوشیار ہیں کہ وہ اس بےجا اور معنی خیز بیان کو دہرائیں اور اسے ہوا دیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ملت ایران نے مغرب کی خفیہ ایجنسیوں کی مصنوعی گروہ بندیوں سے ہٹ کر قومی مفادات، امنگوں اور مقاصد کی حمایت کی ہے اور حکومت اور عوام کی یکجہتی کو ثابت کیا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ امریکہ نے ایک عرصے سے ایرانی قوم کے قومی اتحاد اور یکجہتی کو نشانہ بنا رکھا ہے اس بنا پر اس کے لیے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اختلاف ڈالنے کا موضوع کیا ہو۔

اسلامی جمہوری نظام کے دشمنوں نے کہ جن میں امریکہ اور صیہونی حکومت سرفہرست ہیں، کہ جن کو ایران کے دنیا کے خودمختار اور حریت پسند ملکوں کی ترقی و پیشرفت کے نمونے میں تبدیل ہونے پر تشویش ہے، ایران میں اختلاف اور تفرقہ ڈالنے کے لیے فوجی مداخلت کی پالیسی، سیکورٹی دھمکیوں اور اقتصادی پابندیوں کے ساتھ ساتھ وسیع پروگرام بھی تیار کیے ہیں۔

اس سلسلے میں امریکی کانگرس نے ایران کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کے لیے مختص بجٹ میں حالیہ برسوں کے دوران بہت زیادہ اضافہ کیا ہے کہ جس کا زیادہ حصہ سیاسی اقدامات اور داخلی اختلافات پیدا کرنے اور دھڑے بندیوں کے لیے خرچ کیا جاتا ہے۔

سی آئی اے سے وابستہ سیٹلائٹ چینل کہ جو تکفیری اور سعودی چینل سے قریبی تعاون کرتے ہیں، ایران میں تفرقہ انگیز پیغامات نشر کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ اپنے زعم باطل میں ایران اسلامی کی یکجہتی اور ترقی میں رکاوٹ ڈال سکیں۔

گلوبل ریسرچ ویب سائٹ نے اسی سلسلے میں پچیس جولائی کو شائع ہونے والی اپنی ایک تجزیاتی رپورٹ میں لکھا ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب کوشش کر رہے ہیں کہ بہت سے بحران کھڑے کرکے ایران کو علاقوں میں آشوب اور بدامنی کا شکار کریں، اس کے اندر دہشت گردی کے خطرات پیدا کریں اور دھڑے بندی کے ذریعے رنگین انقلاب کے لیے لوگوں کو اکسائیں۔

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے پیر کے روز ملک کے مختلف صوبوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد سے خطاب میں اس سلسلے میں اہم نکات کی طرف اشارہ کیا اور ایٹمی معاہدے کے معاملے میں امریکی طرزعمل سے ملت ایران کے تجربہ حاصل کرنے پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ کہتے ہیں آئیے علاقے کے مسائل پر بھی مذاکرات کرتے ہیں لیکن ایٹمی معاہدے کا تجربہ ہم سے کہتا ہے کہ یہ کام ایک مہلک زہر ہے اور کسی بھی مسئلے میں امریکیوں کی باتوں پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔

آپ نے اس بات پر زور دیا کہ ایرانی عوام مختلف زبانوں، قومیتوں اور مذاہب سے تعلق رکھنے کے باوجود متحد ہو کر کوشش کر رہے ہیں کہ ایران عزیز کو ایک اسلامی ملک کے معنوی اور مادی نمونے کی حیثیت سے دنیا والوں کے سامنے پیش کریں تاکہ دوسری مسلمان قومیں سامراج کی تفرقہ انگیز اور لوٹ مار کی پالیسیوں کے مقابل اسی پرافتخار راستے کو طے کریں۔

رہبر انقلاب اسلامی نے مزید فرمایا کہ ایران اس وقت ایک عزیز اور طاقتور ملک میں تبدیل ہو گیا ہے کہ جسے بڑی طاقتیں علاقائی حریف کو طور پر دیکھتی ہیں اور وہ علاقے میں اس کی توانائیوں اور وسائل پر تسلط حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ البتہ وہ ایسا نہیں کر سکتی ہیں۔