ایرانی عوام سے رہبر انقلاب اسلامی کا خطاب
رہبر انقلاب اسلامی آیۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے پیر کے روز ایران کے مختلف صوبوں سے متعلق ہزاروں کی تعداد میں عوام سے اپنے خطاب میں ایٹمی معاہدے کو امریکہ کی وعدہ خلافی اور اس ملک کے ساتھ مذاکرات کے بے نتیجہ ہونے کے تجربے سے تعبیر فرمایا کہ جس نے ایک بار پھر اس بات کو ثابت کر دیا کہ امریکہ پر ہرگز اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔
آپ نے فرمایا کہ ایٹمی معاہدے نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ ملک کی ترقی و پیشرفت اور ایرانی عوام کے حالات کو بہتر بنانے کے لئے اندرون ملک توجہ دیئے جانے کی ضرورت ہے نہ کہ ایسے دشمنوں پر جو علاقائی و عالمی سطح ایران کے لئے مسائل و مشکلات پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ رہبر انقلاب اسلامی آیۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے ایٹمی معاہدے کے سلسلے میں امریکی رویے سے ایرانی قوم کو حاصل ہونے والے تجربے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ چاہتا ہے کہ علاقائی مسائل کے بارے میں بھی اس کے ساتھ مذاکرات کئے جائیں جبکہ ایٹمی معاہدے کا تجربہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ یہ کام، زہر قاتل ہے اور کسی بھی مسئلے میں امریکیوں کی باتوں پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔ امریکہ پر ایران کا عدم اعتماد کوئی انتخابی نعرہ نہیں بلکہ ماضی کے تجربات، موجودہ رویے اور علاقے میں امریکہ کے تسلط پسندانہ مقاصد کے حقیقت پسندانہ تجزیئے کا نتیجہ ہے اور یہ تینوں عناصر، ان واقعات کے تجزیئے میں سند کی حیثیت بھی رکھتے ہیں کہ جن میں امریکہ کا ہاتھ رہا ہے۔ ان واقعات کا ایک حالیہ نمونہ، ترکی میں شکست سے دوچار ہونے والی بغاوت ہے کہ جس کی طرف رہبر انقلاب اسلامی نے اشارہ بھی فرمایا ہے۔ امریکہ پر یہ سخت الزام ہے کہ ترکی میں اس کی سازش و تدبیر سے ہی بغاوت کی کوشش کی گئی تھی اور اگر یہ الزام ثابت ہوجاتا ہے تو امریکہ کے لئے بہت بڑی رسوائی کا باعث ہو گا۔ آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے سعودی حکومت اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کے کھل جانے کو امت مسلمہ کی پشت میں خنجر گھونپنا قرار دیا اور فرمایا کہ سعودیوں کا یہ اقدام ایک عظیم گناہ اور خیانت ہے لیکن اس اقدام کے پس پردہ بھی امریکیوں کا ہاتھ ہے کیونکہ سعودی حکومت امریکہ کی تابع محض بنی ہوئی ہے۔ امت مسلمہ میں اختلاف پیدا کرنے کی غرض سے تکفیری گروہوں کے قیام اور ان کی تقویت میں امریکی کردار بھی ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ امریکہ پر عدم اعتماد، صرف ایٹمی معاہدے پر منحصر نہیں ہے اگر آج یہ کہا جاتا ہے کہ ایران، امریکہ پر اعتماد نہیں کرتا تو یہ بات ماضی اور حال کے حقائق روشنی میں ہے۔ ایٹمی معاہدے پر دستخط کے ایک سال بعد بھی امریکی کرتوتوں سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ سازش، بہانہ تراشی اور وعدہ خلافی کے عمل کو ایک دن امریکی کانگریس تو دوسرے دن صیہونی لابیوں میں آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے اس سے قبل بھی بارہا تاکید کے ساتھ فرمایا ہے کہ ایٹمی معاہدہ، کچھ مبہم اور کمزور انفرااسٹرکچر و پہلوؤں کا حامل ہے کہ جن پر ہر وقت اور صحیح طرح سے توجہ نہیں دی گئی تو ایران کے حال و مستقبل کے لئے بڑے نقصان پر منتج ہو سکتا ہے۔ ایک سال قبل جب ایٹمی معاہدے پر ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کی جانب سے دستخط کئے گئے تو اس معاہدے کے بارے میں صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی کے خط کے جواب میں رہبر انقلاب اسلامی نے ایران کے ساتھ ایٹمی مذاکرات کرنے والے بعض فریقوں کے ناقابل اعتماد ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تاکید کے ساتھ فرمایا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ معاہدے کے متن پر بھرپور توجہ دی جائے اور اس کو قانون کے دائرے میں پرکھا جائے۔ اس وقت ایٹمی معاہدے پر عمل درآمد کے چھے ماہ بعد امریکہ کی وعدہ خلافی اور امریکی کانگریس میں انجام دیئے جانے والے اقدامات سے یہ ثابت ہو گیا کہ وہ صرف موقع کی تلاش میں ہے تاکہ پابندیوں کا تحفظ کیا جائے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی یا دفاعی میزائل توانائی پر تشویش کے دعوؤں اور یا پھر ایران پر اس بات کے الزام سے کہ وہ دہشت گردی کی حمایت کرتا ہے، اس بات کی عکاسی ہوتی ہے کہ وہ ایران پر دباؤ ڈالنے کی پالیسی جاری رکھنا چاہتا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی آیۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کی تعبیر کے مطابق اس وقت ڈپلومیسی حکام اور مذاکرات کے عمل میں شریک حکام بھی اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ امریکہ، وعدہ خلافی کر رہا ہے اور وہ رکاوٹوں کے ذریعے اس بات کی کوشش کر رہا ہے کہ دیگر ملکوں کے ساتھ ایران کے تعلقات بہتر نہ ہونے پائیں۔