ہندوستان کی بعض سیاسی جماعتوں کا مسئلہ کشمیر کے حل پر زور
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i240367-ہندوستان_کی_بعض_سیاسی_جماعتوں_کا_مسئلہ_کشمیر_کے_حل_پر_زور
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں عوامی احتجاج اور بحران جاری رہنے کے بعد ہندوستان کی کئی سیاسی جماعتوں نے مسئلہ کشمیر کو پرامن طور پر حل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Aug ۰۲, ۲۰۱۶ ۱۲:۵۳ Asia/Tehran
  • ہندوستان کی بعض سیاسی جماعتوں کا مسئلہ کشمیر کے حل پر زور

ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں عوامی احتجاج اور بحران جاری رہنے کے بعد ہندوستان کی کئی سیاسی جماعتوں نے مسئلہ کشمیر کو پرامن طور پر حل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ہندوستان کی کئی سیاسی جماعتوں نے پیر کے روز ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں خونریز جھڑپوں کے جاری رہنے اور حالیہ احتجاج کے دوران تقریبا ساٹھ افراد کی ہلاکت پر تنقید کرتے ہوئے اس علاقے میں جھڑپوں کے خاتمے کے لیے کشمیری گروہوں کے رہنماؤں کے ساتھ حکومت کے مذاکرات کا مطالبہ کیا ہے۔

کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ احتجاج کرنے والوں کے ساتھ بات چیت شروع کر کے بےگناہ افراد کی ہلاکت کو روکے۔ ہندوستان کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کانگریس پارٹی نے بھی کشمیر میں مظاہرین کے ساتھ حکومت اور سیکورٹی فورسز کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے اس علاقے کا بحران حل کرنے کے لیے کوشش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

ہندوستان کے زیرانتظام ریاست جموں و کشمیر کی وزیراعلی محبوبہ مفتی نے بھی مظاہرین کے ساتھ پولیس اور سیکورٹی فورسز کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے کوشش کرنے کی اپیل کی ہے۔

کرفیو کے نفاذ، مارکیٹوں اور دکانوں کی بندش، تعلیمی اداروں اور اسکولوں کے بند ہونے اور پبلک ٹرانسپورٹ نہ چلنے کی وجہ سے وادی میں عام زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔

ہندوستان کی بعض سیاسی جماعتوں نے کشمیری رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کا جو مطالبہ کیا ہے یہی تجویز حال ہی میں کشمیر کی وزیراعلی نے بھی دی تھی۔ اگرچہ ماضی میں کشمیری عوام کے خلاف ہندوستانی فورسز کا تشدد جاری رہا ہے لیکن حال ہی میں اس علاقے میں بی جے پی اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی مخلوط حکومت کی تشکیل کے بعد کشمیری عوام کے خلاف تشدد میں اضافہ ہو گیا ہے۔ یہ ایسے وقت میں ہے کہ جب ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کے حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے تشدد اور سرکوب کی پالیسی ایک ناکام تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ اسی بنا پر کشمیری گروہوں اور پاکستان نے کہ جو مسئلہ کشمیر کے فریق سمجھے جاتے ہیں، بارہا ہندوستانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس علاقے کے بحران کے بنیادی حل کے لیے سہ فریقی مذاکرات کو قبول کر لے یا کشمیر میں ریفرینڈم کرانے پر مبنی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کرائے۔ یہ ایسے وقت میں ہے کہ جب ہندوستان اس علاقے کو متنازعہ نہیں سمجھتا ہے اور کشمیر کو اپنا اٹوٹ حصہ قرار دیتا ہے۔

سیاسی مبصرین کے خیال میں ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے ہندوستان کی بعض سیاسی جماعتوں کی درخواست درحقیقت نئی دہلی کے موقف کی تکرار ہے۔ دوسرے لفظوں میں ان جماعتوں نے ہندوستانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کشمیری رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کر کے انھیں بحران اور بدامنی کو ختم کرنے پر قائل کرے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب کشمیری رہنماؤں نے اعلان کیا ہے کہ حالیہ احتجاجی لہر ایک عوامی لہر ہے اور یہ خودبخود اٹھی ہے اور یہ لوگوں کے دبے ہوئے غصے کا اظہار ہے کہ جو مختلف بہانوں سے سامنے آ جاتا ہے۔ کشمیری رہنما مسئلہ کشمیر کو بنیادی طور پر حل کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور اس میں مدد دینے کے لیے انھوں نے اپنی آمادگی کا اعلان کیا ہے۔ ان رہنماؤں کا یہ خیال ہے کہ ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں ہندوستان کا تقریبا سات دہائیوں سے فوجی طاقت استعمال کرنے کا تجربہ عملا ناکام ہو چکا ہے اور ہندوستان کو حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے بنیادی حل کے لیے اقدام کرنا چاہیے۔