پاکستان میں شیعہ کشی جاری
پاکستان میں شیعہ مسلمانوں کی ٹارگٹ کلنگ بدستور جاری ہے جس کے نتائج پر شیعہ کانفرنس بلوچستان نے تشویش کا اظہار کیا ہے
۔ شیعہ کانفرنس کے سربراہ سید داود آغا نے کہا ہے کہ دہشتگردوں نے ایک بار پھر صوبہ بلوچستان میں بدامنی پھیلانے کی سازش رچی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کا خاتمہ کرنے میں حکومت پاکستان کی غلط کارکردگی سے ایک بار پھراس صوبے میں دہشتگردانہ سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں اور اگر حکومت پاکستان فوری طور پر دہشتگردوں کو نابود کرنے کا اقدام نہیں کرتی ہے تو صوبہ بلوچستان کے حالات نہایت بحرانی ہوجائیں گے۔شیعہ کانفرنس کے سربراہ نے کوئٹہ میں دو شیعہ مسلمانوں کی ٹارگٹ کلنگ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اسلام آباد کو بلوچستان میں امن قائم کرنے کے لئے موثر اقدامات کرنے چاہیں۔ قابل ذکرہے پاکستان کی ایک سو پچانوے ملین کی آبادی میں بیس فیصد شیعہ مسلمان ہیں۔پاکستان میں شیعہ مسلمانوں کی ٹارگٹ کلنگ کا ایک واقعہ ان ہی دنوں کوئٹہ میں رونما ہوا جہاں دہشتگردوں نے ہزارہ قوم سے تعلق رکھنے والے دو افراد کو گولی مار کر شہید کردیا۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے شیعہ مسلمانوں کے قتل عام اور ان پر دہشتگردانہ حملوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بھوک ہڑتال کررکھی ہے۔ان کی بھوک ہڑتال کو اسی 80 دن ہورہے ہیں۔بھوک ہڑتال کے نتیجے میں وہ شدید کمزوری اور دل اور گردے کے امراض میں مبتلا ہوگئے ہیں اور اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ ادھر ملت جعفریہ پاکستان کے شہید قائد سید عارف حسین حسینی کی اٹھائیسویں برسی کے موقع پر مجلس وحدت مسلمین کی اپیل پر شیعیان پاکستان چھے اگست کو اسلام آباد میں عظیم اجتماع کریں گے۔
پاکستان میں شیعہ مسلمانوں کی ٹارگٹ کلنگ پر احتجاج کے باوجود شیعہ مسلمانوں کے خلاف حملے بدستور جاری ہیں۔مجلس وحدت مسلمین کے ایک رہنمااور شہر کوئٹہ کے امام جمعہ سید ہاشم موسوی نے کوئٹہ میں شیعہ مسلمانوں کی ٹارگٹ کلنگ کی مذمت کرتے ہوئے فیڈرل اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ تکفیریوں کے خاتمے کے لئے موثر اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت اور سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے باوجود ملک کے مختلف علاقوں میں شیعہ مسلمانوں کی ٹارگٹ کلنگ جاری ہے۔ واضح رہے پاکستان میں ملت جعفریہ نے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کرکے شیعہ قوم کو تحفظ دئے جانے کی ضرورت پر تاکید کی ہے۔ مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ شیعہ مسلمانوں کو بھرپور طرح سے تحفظ فراہم کیا جائے۔ ادھر مجلس وحدت مسلمین کے ترجمان نے کہا ہےکہ جب تک شیعہ قوم کے مطالبات منظور نہیں کرلئےجاتے مظاہرے جاری رہیں گے۔
شہر راولپنڈی میں ہونے والے قومی کانفرنس میں جس میں شیعہ اور اھل سنت کے علماء نے شرکت کی علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی بھوک ہڑتال کی بھی حمایت کی گئی۔ اس کانفرنس میں شیعہ مسلمانوں کے خلاف جاری دہشتگردانہ حملوں کی بھی مذمت کی گئی۔ ادھر مجلس وحدت مسلمین کے ایک اور رہنما ناصر شیرازی نے حکومت نواز شریف کو خبردار کیا ہے کہ شیعہ مسلمانوں کے تعلق سے اپنی پالیسیوں کی اصلاح کرلیں اور شیعہ مسلمانوں کا قتل عام بند کریں ورنہ بصورت دیگر اگر حالات بحرانی ہوگئے تو حکومت ہی اس کی ذمہ دار ہوگی۔