امریکہ کے صدارتی انتخابات اور ایران کا ایٹمی مسئلہ
امریکی حکام نے، جو اس وقت صدارتی انتخابات کی تگ و دو میں لگے ہوئے ہیں، ایٹمی معاہدے کا مسئلہ اٹھا کر سیاسی و تشہیراتی حلقوں میں ہنگامہ کھڑا کر دیا ہے۔
امریکہ میں بعض حلقے، ان اقدامات کے بارے میں،کہ جو اس ملک کے حکام کو ایٹمی معاہدے کے بعد عمل میں لانا چاہئے تھے، غلط پروپیگنڈہ کر کے ان اقدامات کو ایران کو باج دیئے جانے سے تعبیر کر رہے ہیں تاکہ حزبی رقابت میں فائدہ اٹھایا جا سکے۔ امریکہ کی جانب سے ایران کو چار سو ملین ڈالر ادا کئے جانے کا دعوی بھی، کہ جسے ایران میں امریکی قیدیوں کی رہائی کے تاوان سے تعبیر کیا جا رہا ہے، پروپیگنڈہ مہم کا حصہ بنا ہوا ہے۔ جبکہ یہ رقم، واشنگٹن کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندیوں کے نتیجے میں امریکہ میں منجمد کئے جانے والے ان اثاثوں کا حصہ ہے کہ جن کو آزاد کئے جانے کا ایران مطالبہ کرتا رہا ہے۔ باج خواہی درحقیقت اپنے ناجائز مقاصد کے حصول کے لئے امریکی حکام کا ایک وطیرہ ہے۔ امریکہ نے ایٹمی معاہدے کے تحت کئے جانے والے اپنے وعدوں پر بھی عمل نہیں کیا ہے۔ البتہ امریکی صدر بارک اوباما نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ چار سو ملین ڈالر کی نقد رقم، جو تہران میں امریکی شہریوں کی آزادی کے فوری بعد ادا کی گئی ہے، بعض ریپبلکنز کے دعوے کے برخلاف ہرگز باج نہیں ہے۔ امریکی صدر بارک اوباما نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ہیگ کی بین الاقوامی عدالت میں مقدمہ چلنے اور مسئلہ حل ہو جانے کے بعد ایران کے اثاثوں میں سے چار سو ملین ڈالر کے علاوہ، جو امریکہ نے انّیس سو اکیاسی میں ضبط کر لئے تھے اور جس سے استفادہ بھی کیا تھا،ان اثاثوں کے منافع کے طور پر ایک ارب، تیس کروڑ ڈالر کی رقم کو آزاد کر دیا گیا۔ یہ رقم، ان رقومات کا حصہ ہے جو ایران نے اسلامی انقلاب سے قبل امریکہ سے فوجی ہتھیار اورفوجی ساز و سامان کی خریداری کے لئے ادا کی تھیں۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان جاش ارنسٹ نے بھی اپنی معمول کی پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ریپبلکنز، جو ایران کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے کی مخالفت کرتے رہے ہیں، ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کی مفاہمت پر اپنی مخالفت کی توجیہ پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ریپبلکنز نے دو ہزار سولہ کے لئے اپنے پروگراموں کی دستاویز کے ایک حصے میں، مشترکہ جامع ایکشن پلان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ایٹمی معاہدے کے دائرے میں ایران کے خلاف بین الاقوامی پابندیوں کو اٹھانے کے بارے میں امریکہ نے جو وعدے کئے ہیں انھیں وہ امریکی صدر اور مذاکرات کرنے والے شرکاء کے درمیان ایک ذاتی معاملہ سمجھتے ہیں اور وہ امریکہ کے آئندہ کے صدر پر،ان وعدوں پر عمل کو ضروری نہیں سمجھتے۔ امریکہ میں ایک ایسے سمجھوتے کے بارے میں ڈرامے بازی سے، کہ جس پر واشنگٹن نے اب تک عمل بھی نہیں کیا ہے، اس ملک میں اندرونی سیاسی دھڑے بندی کا بخوبی پتہ چلتا ہے۔ امریکہ میں ایران کے سینٹرل بینک کے اثاثوں کو ضبط کیا جانا اور اسی طرح ایران کے خلاف مکمل پابندیوں کو اٹھایا نہ جانا، ایسے مسائل ہیں، کہ جن کو ایٹمی معاہدے کے دائرے میں پابندیاں نرم کئے جانے سے متعلق وعدوں پر عمل نہ کئے جانے کے بارے میں اقوام متحدہ کی سطح پر ایران کی جانب سے کی جانے والی شکایات کے تحت آگے بڑھایا جاتا رہا ہے۔ اس لئے کہ ایٹمی معاہدہ، ایک ایسا سمجھوتہ ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کی بنیاد پر جس پر عمل کیا جانا ضروری ہے۔ ظاہر کی سی بات ہے کہ ایٹمی معاہدے سے امریکہ میں رائے عامہ کی توجہ حاصل کرنے اور اس مسئلے کو انتخابی مہم کا حصہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جا سکے تاہم اس مسئلے کے تجزیے میں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اس عمل کی ماہیت، ایران سے امریکہ کی مسلسل جاری دشمنی ہے اور اسی حقیقت نے یہ صورت حال بنائی ہے کہ ایران، امریکہ پر ہرگز اعتماد نہیں کرتا ہے۔