افغانستان کا انتخاباتی نظام کا مسئلہ باقی
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i240766-افغانستان_کا_انتخاباتی_نظام_کا_مسئلہ_باقی
افغانستان کی سینیٹ اور پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی ملک کے انتخاباتی نظام کی اصلاح کے لئے کسی راہ حل تک نہیں پہنچ سکی ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Aug ۰۴, ۲۰۱۶ ۱۴:۲۰ Asia/Tehran
  • افغانستان کا انتخاباتی نظام کا مسئلہ باقی

افغانستان کی سینیٹ اور پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی ملک کے انتخاباتی نظام کی اصلاح کے لئے کسی راہ حل تک نہیں پہنچ سکی ہے۔

 

افغانستان کے آئین پر نگرانی کرنے والے کمیشن  نے اعلان کیا ہے کہ صدر محمد اشرف غنی انتخاباتی نظام کی اصلاح کا نیا فرمان جاری کرسکتے ہیں۔ اس کمیشن نے صدر اشرف غنی کی درخواست کے جواب میں کہ کیا صدر انتخاباتی نظام کی اصلاح کے لئے نیا فرمان جاری کرسکتا ہے کہا ہے حکومت افغانستان آئین کے آرٹیکل اناسی کے مطابق پارلیمنٹ کی چھٹیوں کے دوران انتخابات اور انتخابی کمیشنوں کے بارے میں اصلاحی فرمان جاری کرسکتا ہے۔ واضح رہے صدر اشرف غنی نے انتخابات کے مستقل کمیشن کی تشکیل، اسکی ذمہ داریوں اور صلاحیتوں کے بارے میں نیز انتخابات کے حوالے سے شکایتوں کے کمیشن کے بارے میں فرمان جاری کیا تھا جسے پارلیمنٹ نے رد کردیا ہے جبکہ سینیٹ نے منظور کرلیا ہے۔اس مشکل کو حل کرنے کے لئے پارلیمنٹ اور سینیٹ کی مشترکہ کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جو ناکام رہی۔ قانون کے مطابق صدر کا فرمان مسترد شمار کیا جائے گا۔ اس موقع پر افغانستان کی پارلیمنٹ نے انتخاباتی نظام کے تعلق سے فرمان جاری کرنے کےسلسلے میں صدر اشرف غنی کے اختیارات محدود کردئے ہیں۔ اس امر کے پیش نظر کہ افغانستان کی موجودہ پارلیمنٹ کی میعاد میں توسیع کی گئی ہے اور قومی  حکومت نے اعلان کیا ہے کہ جب تک انتخاباتی نظام کی اصلاح نہیں ہوجاتی اس وقت تک پارلیمانی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات نہیں ہونگے۔ افغانستان کے صدر کے دفتر نے آئین پر نگرانی کرنے والے کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ انتخاباتی نظام کی اصلاح کے تعلق سے صدر کے فرمان جاری کرنے کےبارے میں اپنی مشاورتی نظر دے۔ اس کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ شہریوں کے بنیادی حقوق کو ضایع ہونے سے بچانے کے لئے حکومت آئین کے آرٹیکل اٹہتر کے مطابق پارلیمنٹ کی چھٹیوں کے دوران انتخابات اور انتخاباتی کمیشنوں کے بارے میں کوئی بھی فرمان جاری کرسکتی ہے۔ یہ قانونی راستہ ایسے عالم میں صدر اشرف غنی کو بتایا گیا ہے کہ چیف ایگزیکیٹو عبداللہ عبداللہ نے حال ہی میں کہا ہے کہ انتخاباتی نظام میں اصلاح کا بل عنقریب تیار ہوجائے گا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق پارلیمنٹ کی چھٹیاں حکومت کے لئے ایک اچھا موقع ہیں کہ وہ صدر محمد اشرف غنی کے فرمان سے انتخاباتی نظام کی اصلاح میں موجود گرہیں کھول لے اور حکومت کمیشنوں کے ارکان مقرر کرکے نیز انتخاباتی نظام کے بعض قوانین کو بدل کر بہتر اور اچھے طریقے سے انتخابات کرانے کے لئے قدم اٹھائے۔ اس وقت افغانستان کی قومی اتحادی حکومت پر یہ الزامات لگائے جارہے ہیں کہ وہ انتخابات کے مسائل حل کرنے میں ناتوان ہے۔ البتہ حکام کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ میں بعض دھڑے جو اپنی پوزیشن کے کمزور ہونے اور اپنے مفادات کے خطرے میں پڑنے سے تشویش میں مبتلا ہیں انتخاباتی نظام کی اصلاح کے سامنے مزاحمت کررہے ہیں اور اس سلسلے میں صدر اشرف غنی کا فرمان قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ اور خود بھی انتخاباتی نظام کی اصلاح کے پروگرام کو آگے بڑھانے کی راہ میں کوئی واضح تجویز پیش نہیں کررہے ہیں۔ دراین اثنا حکومت اور سینیٹ کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ مشترکہ کمیٹی کے ساتھ تعاون کرنے کو تیار نہیں ہے۔ ان حالات میں انتخاباتی نظام میں اصلاحی عمل کو آگے بڑھانے کےلئے آئین پر نگران کمیشن کا یہ قانونی نظریہ کہ صدر اس غرض سے فرمان جاری کرسکتے ہیں کس قدر موثر و مفید واقع ہوسکتا ہے؟ سیاسی مبصرین کا کہنا ہےکہ حکومت کو صدر کےفرمان پر عمل درامد کرنے میں تیزی سے  کام کرنا چاہیے اور جب تک پارلیمنٹ کی چھٹیاں چل رہی ہیں اس عرصے میں انتخابات سے متعلق امور کو منظم کرلینا چاہیے ورنہ افغانستان کی پارلیمنٹ کے پاس بھی حکومت کا مقابلہ کرنے کی طاقت ہے۔