ایزدیوں کے قتل عام کی دوسری برسی
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i241114-ایزدیوں_کے_قتل_عام_کی_دوسری_برسی
عراق میں داعش کے وحشیانہ تشدد کو جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرم اور حتی نسل کشی سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Aug ۰۶, ۲۰۱۶ ۱۱:۳۳ Asia/Tehran
  • ایزدیوں کے قتل عام کی دوسری برسی

عراق میں داعش کے وحشیانہ تشدد کو جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرم اور حتی نسل کشی سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے دھشت گرد گروہ داعش کے ہاتھوں سنجار پر قبضے اور ایزدیوں کے قتل عام کی دوسری برسی کے موقع پر عراق میں داعش کے وحشیانہ تشدد کو جنگی جرائم قرار دیا ہے۔

بان کی مون نے اپنے ایک بیان میں دو سال قبل سنجار شہر پر داعش کے حملے اور اس شہر کے باشندوں کے قتل عام کا ذکر کرتے ہوئے تاکید کی کہ عراق میں داعش کے وحشیانہ تشدد کو جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرم اور حتی نسل کشی سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے عراق میں اقلیتوں منجملہ ایزدیوں کے خلاف داعش کے جرائم کی مذمت کرتے ہوئے، عراق کے شمال میں عام شہریوں کی سیکورٹی خاص طور پر داعش کے قبضے میں ہزاروں ایزدی خواتین اور بچوں کی صورت حال کی بابت تشویش کا اظہارکیا۔

عراق کے شمال میں واقع نینوا صوبے کا شہر سنجار، تین اگست دو ہزار چودہ کو عراق کے کردستان کی پیشمرگہ فورسز کی پسپائی کے بعد، داعش کےقبضے میں چلاگیاتھا۔

سنجار شہر 13 نومبر 2015 کو پیشمرگہ فورس اور سنجار کی عوامی رضاکار فورسز اور پی، کے، کے  کے فوجی ونگ کے  مشترکہ حملے کے نتیجے میں داعش کے قبضے سے آزاد ہوا۔

سنجار شہر پر داعش کے قبضے کے ساتھ ہی عراق میں ایزدیوں کے قتل عام کا آغاز ہوا۔

اجتماعی قتل عام، ایزدی مردوں کو سرعام اور کیمروں کے سامنے قتل کیا جانا، ایزدی خواتین کو قیدی بنانا اور کنیزوں کے عنوان سے بازاروں میں فروخت کیا جانا اور داعش کے عناصر کے ہاتھوں ان کو سرعام پھرایا جانا، سنجار پر قبضے کے بعد داعش دھشت گرد گروہ کے بدترین جرائم کا ایک حصہ ہیں۔

داعش دھشت گرد گروہ جیسی بدترین وحشیانہ کاروائیوں کا ذکر اس سے پہلے سنجار شہر کی تاریخ میں نہیں ملتا۔

سنجار شہر کے مقامی حکام کا کہنا ہے کہ داعش کی قید میں موجود ہزاروں خواتین و بچوں سے مختلف طریقوں سے کام لیا جانا، بدستور جاری ہے اور یہ مسئلہ عالمی برادری اور بین الاقوامی اداروں کی تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری بان کی مون نے اپنے بیان میں داعش دھشت گردوں کے خلاف سرگرم خاصطور پر عراق میں داعش کے خلاف جنگ میں سرگرم فریقوں سے کہا ہے کہ  داعش کے قبضے میں موجود قیدیوں کی رہائی کے لئے حتمی طور پر زیادہ کوشیشیں انجام دی جائیں اور اس کام کو ترجیحات میں قرار دیا جائے۔

داعش کی قید میں موجود ایزدیوں کو نجات دلانے کے لئے عالمی برادری کی کوشیشوں کے ساتھ ساتھ، یہ کردستان کی پیشمرگہ فورسز کی بھی ذمہ داری ہے، کہ ایزدی خواتین اور بچوں کی نجات کے لئے تمام تر کوشیشوں کو بروئے کار لائیں۔

ایزدیوں کی صورت حال پر پیشمرگہ فورسز کی خصوصی توجہ، داعش کے ہاتھوں اس شہر پر قبضے کے دوران، ان کی کوتائیوں کی تلافی کرسکتی ہے۔

پی، کے، کے، کے ایک کمانڈر نتوی غمگین، کہ جو سنجار پر داعش کے حملے کے وقت، علاقے میں موجود تھا، نے سنجار شہر پر داعش کے قبضے کی دوسری برسی کے موقع پر دعوی کیا ہے کہ عراق کے کردستان کی ڈیموکریٹ پارٹی کے ایک عہدیدار نے سنجار شہر پر داعش کے قبضے سے دو روز قبل، دھشت گرد گروہ داعش کے سرغنوں سے ملاقات کی تھی۔

اس کمانڈر کا کہنا ہے کہ سنجار سے عراقی کردستان کی پیشمرگہ فورسز کی پسپائی، اس شہر کے سرنگوں ہونے کا اصلی عامل اور ایزدیوں کے خلاف داعش کے جرائم کا سرآغاز تھا اور اسے ہرگز فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

داعش کے خلاف ٹھوس اقدامات اور عراق میں عام شہریوں خاص طور پر ایزدیوں کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانا اور ان کو سزائیں دیا جانا، عراق میں ایزدی اقلیت پر روا رکھے جانے والے ظلم کا مداوا ہوسکتا ہے۔