شام کے بحران کے راستے میں حائل بنیادی رکاوٹیں
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i241117-شام_کے_بحران_کے_راستے_میں_حائل_بنیادی_رکاوٹیں
جنگ اور دھشتگردی کے تسلسل سے شامی مرد، عورتیں اور بچے روحانی اور نفسیاتی پریشانیوں کا شکار ہیں
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Aug ۰۶, ۲۰۱۶ ۱۱:۳۷ Asia/Tehran
  • شام کے بحران کے راستے میں حائل بنیادی رکاوٹیں

جنگ اور دھشتگردی کے تسلسل سے شامی مرد، عورتیں اور بچے روحانی اور نفسیاتی پریشانیوں کا شکار ہیں

شام کا بحران گذشتہ 66 ماہ سے جاری ہے۔ اس بحران کا سب سے زیادہ نقصان شامی عوام کو پہنچ رہا ہے اور انہیں اس جنگ میں بہت زیادہ قربانیاں دینی پڑرہی ہیں۔

شامی عوام کا قتل عام، دربدری، شامی مہاجرین کی تعداد میں اضافہ، زندگی کے ساز و سامان کی تباہی، شام کے یتیم بچوں کی تعداد میں اضافہ اور خواتین کا بے سہارا ہونا،  ان بڑی مشکلات میں سے چند ہیں جن کا شامی عوام کو سامنا ہے۔

ان مسائل کے علاوہ شامی شہریوں کو بہت سے نفسیاتی مسائل کا بھی سامنا ہے۔ ملک کے اندر تعلیمی، ثقافتی اور تفریح کے مواقع نہ ہونے اور جنگ اور دھشتگردی کے تسلسل سے شامی مرد، عورتیں اور بچے روحانی اور نفسیاتی پریشانیوں کا شکار ہیں۔

دنیا، علاقے اور شام کی کوئی سیاسی، سماجی شخصیت نیز ذرائع ابلاغ میں تحلیل و تجزیہ کرنے والے انصاف پسند افراد اس بات سے انکار نہیں کرسکتے کہ انصاف  کی عالمی عدالت کے آئین اور منشور میں  انسانیت اورامن و صلح کے خلاف جرائم نیز جنگی جرائم اور جارحیت کے حوالے سے جو باتیں آئی ہیں ان سب جرائم کا شام میں ارتکاب ہورہا ہے

اس کے باوجود عالمی برادری اس بات پر متفق نہیں ہوسکی ہے کہ شام کے بحران کو کس طریقے سے حل کیا جائے ابھی تک ویانا اور ماسکو میں مزاکرات کے دو دور ہوچکے ہیں اسی طرح مختلف ممالک میں اس بحران کے حل کے لئے بیسیوں اجلاس منعقد ہوچکے ہیں لیکن ابھی تک متفقہ راہ حل سامنے نہیں آسکا ہے ۔اس صورت حال میں اقوام متحدہ  میں روس کے  نمائندے ویتالی چورکین نے اس بات پر تاکید کی ہے کہ جب تک شام کے اندر مختلف سیاسی گروہوں میں مذاکرات کا سلسلہ شروع نہیں ہوتا شام کے بحران کی عالمی کوششیں نتیجہ خیز اور تمام فریقین کے لئے قابل قبول نہیں ہوسکتیں۔روس کے نمائندے کی طرف سے شام کے بحران کے حوالے سے جو موقف اختیار کیا گیا ہے وہ صحیح اور حقیقت پسندانہ ہے ۔شام میں بھی دوسرے عرب ممالک کی طرح حکومت مخالف تحریک شروع ہوئی تھی اور عوام نے احتجاج کا سلسلہ شروع کیا تھا لیکن اس بحران میں اس وقت شدت آئی حب علاقے کے عرب ممالک نیز مغربی ممالک اور ترکی نے شام میں اپنی مداخلتوں کا سلسہ تیز کیا ۔ان ممالک کی مداخلت کا یہ نتیجہ سامنے آیا کہ اسی 80سے زیادہ ملکوں سے تعلق رکھنے والے دہشتگرد شام میں اکھٹے ہوگئے ۔شام کے بحران کے راستے میں چار بنیادی رکاوٹیں موجود ہیں ۔پہلا مسئلہ دہشتگردی کو اچھی اور بری دہشتگردی میں تقسیم کرنا دوسرا مسئلہ شامی گروہوں کے اندر اتفاق پیدا کرنے کی کوششوں کے بجائے بیرونی قوتوں کو اس میں شامل کرنا اسی طرح شامی عوام کے مفادات کی جگہ بیرو نی قوتوں کے مفادات کو پہلی ترجیح قرار دینا نیردہشتگردی کا مقابلہ کرنے والی بیرونی قوتوں بالخصوص امریکہ میں دہشتگردی کے خلاف جنگ کے لئے مطلوبہ عزم و ارادے کا نہ ہونا شامل ہے ۔اگر شام کے تناظر میں ان چار مشکلات اور رکاوٹوں کو عبور کرلیا جائے اور سیاسی گروہوں کے درمیان مذاکرات کے لئے تعاون کیا جائے تو شام کا بحران حل کیا جاسکتا ہے