ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں مظاہرے
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i241120-ہندوستان_کے_زیر_انتظام_کشمیر_میں_مظاہرے
ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں شدید حفاظتی انتظامات کے باوجود عوام کا احتجاج جاری ہے۔ہندوستانی حکومت کے خلاف جمعے کے دن کے مظاہروں میں تین مظاہرین جاں بحق ہوئے تھے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Aug ۰۶, ۲۰۱۶ ۱۲:۰۷ Asia/Tehran
  • ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں مظاہرے

ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں شدید حفاظتی انتظامات کے باوجود عوام کا احتجاج جاری ہے۔ہندوستانی حکومت کے خلاف جمعے کے دن کے مظاہروں میں تین مظاہرین جاں بحق ہوئے تھے۔

 

یہ مظاہرے شہر بڈگام میں ہوئے تھے۔ مظاہرین پر پولیس نے پلاسٹیک کی گولیاں چلائیں اور آنسو گیس کے گولے داغے جس میں دو سو سے زائد مظاہرین زخمی ہوگئے۔ واضح رہے کرفیو لگائے جانے کے باوجود یہ مظاہرے ہوئے ہیں۔ گذشتہ تین ہفتوں سے ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں عوام اور ہندوستانی سکیورٹی فورسز کے درمیان خونریز جھڑپوں میں تقریبا ساٹھ افراد جاں بحق اور ساڑھے تین ہزار زخمی ہوئے ہیں۔

ہندوستان کے زیر کنٹرول کشمیر میں سکیورٹی فورسز نے عوامی احتجاج اور مظاہروں کو کنٹرول کرنے کی غرض سے  حریت کانفرنس کے رہنماوں سید علی شاہ گیلانی اور میرواعظ عمر فاروق کو گرفتار کرلیا۔ ان رہنماوں کو مظاہرے کے دوران گرفتار کیا گیا۔ گذشتہ روز کے مظاہرے اور ہڑتال حریت کانفرنس کی کال پر ہوئی تھی ادھر چونکہ  پاکستان نے ہندوستانی حکومت کی جانب سے جان بحق ہونے والوں کی تعداد کی خبروں پر سنسر اور زخمیوں کی حالت سے بے توجہی  سے  تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اسی بنا پر پاکستانی وزیر اعظم کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے ڈاکٹروں کی عالمی تنظیم سے درخواست کی ہے کہ وہ  ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں زخمیوں کو فوری امداد پہنچائے۔سرتاج عزیز نے ڈاکٹروں کی عالمی تنظیم کو ایک مراسلہ بھیج کر کہا ہے کہ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں حالات بحرانی ہیں۔ پاکستان کے مشیر خارجہ نے الزام لگایا ہے کہ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہندوستانی سکیورٹی فورسز کے تشدد میں عوام مارے جارہے ہیں۔کشمیری گروہوں کا کہنا ہے کہ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے عوام کو جب بھی کوئی موقع ملتا ہے وہ اس سے فائدہ اٹھا کر نئی دہلی کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہیں۔ ان کے لئے مظاہرے اور ہڑتال کرنا ہندوستانی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرنے کے ذرائع ہیں۔ کشمیری گروہوں کا کہنا ہے کہ جمعے کے دن کے بڑے مظاہروں سے معلوم ہوتا ہے کہ طاقت کا استعمال اور حفاظتی انتظامات اور گرفتاریاں اس علاقے کے بحران کو ختم نہیں کرسکتیں۔ دریں اثنا ہندوستان کو تشویش لاحق ہے کہ عوام کا  احتجاج جاری رہنے اور مظاہرین کے مارے جانے سے کشمیر ایک بار پھر عالمی ذرائع ابلاغ کی شہ سرخیوں میں آجاے گا اور اس علاقے کے بحران کی طرف ایک بار پھر عالمی حلقوں کی توجہ مڑ  جائے گی۔ ہندوستان ہرگز نہیں چاہتا کہ ایسا ہو۔ ہندوستان اور پاکستان نے دو مرتبہ کشمیر کی ملکیت کے حوالے سے جنگیں لڑی ہیں، اسلام آباد اور کشمیری گروہوں کا کہنا ہے کہ بحران کشمیر کو حل کرنے کے لئے دور راہیں پائی جاتی ہیں۔ پہلی راہ یہ ہےکہ ہندوستان کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کے لئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کرانے سے اتفاق کرے یا پھر ہندوستان، پاکستان اور کشمیری عوام کے نمائندے مل بیٹھ کر مذاکرات کریں۔ واضح رہے ہندوستان کشمیر کو متنازعہ نہیں سمجھتا ہے اور اس علاقے کے بحران کو آئین ہند کی اساس پر حل کرنے کا خواہاں ہے۔ بہرصورت سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ کشمیر کا بحران جس نے ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات کو متاثر کررکھا ہے نہ صرف اس سے علاقے کی سکیورٹی کو خطرہ لاحق ہے بلکہ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیرکے عوام کے لئے بھی بے پناہ مسائل اور مشکلات کا سبب ہے۔اسی وجہ سے ہندوستان پر بالخصوص اس وجہ سے بھی کہ وہ سلامتی کونسل میں مستقل رکنیت کا خواہاں ہے جنوبی ایشیا میں امن  و استحکام برقرار رکھنے کی سنگین ذمہ داری عائد ہوتی ہے اورہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے میں مدد کرکے اس ھدف کے حصول میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔