امریکہ دہشتگردوں کا حامی
شام میں خونخوار تکفیری دہشتگردوں کو امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کے ہتھیار مل رہے ہیں۔
شام کے شہر حلب کے قریب تکفیری دہشتگرد گروہ جبھۃ النصرہ کے ہتھیاروں کے ایک گودام کے بارے میں موصولہ تازہ اطلاعات سے پتہ چلتا ہےکہ ایک امریکی جہاز نے ایک ہزار سات سو ٹن ہتھیار جن میں امریکہ اور دیگر مغربی ملکوں کے ساخت کے ہتھیار تھے، عقبہ بندرگاہ پر اتارے گئے تھے اور وہاں سے وہ تکفیری دہشتگرد گروہ جبھۃ النصرہ کے لئے بھیجے گئے تھے۔ اس گودام سے نہایت پیشرفتہ اور جدید ہتھیار برآمد ہوئے ہیں۔ جبھۃ النصرہ کے تکفیری عناصر شام کی فوج کے حملوں کے نتیجے میں پسپائی اختیار کرتے وقت ان ہتھیاروں کو اپنے ساتھ لے جانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔روس کے ٹی وی چینل ٹو نے رپورٹ دی ہے کہ امریکہ اور دیگر مغربی ملکوں کے سپلائی کئے گئے ان ہتھیاروں میں نہایت ہی ماڈرن اور پیشرفتہ ہتھیار موجود ہیں جو زمینی اور فضائی کاروائیوں میں استعمال ہوتے ہیں یہانتک کہ ان میں ایسے جدید قسم کے میزائل بھی ہیں جن سے فضائی اھداف کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ روسی چینل کی رپورٹ کے مطابق تکفیری دہشتگردوں کے ہتھیاروں کے گودام میں موجود ہتھیاروں میں ان ہتھیاروں کی کھیپ بھی شامل ہے جسے اکیس جون کو امریکی بحری جہاز نے عقبہ بندرگاہ پر اتارا تھا اور وہاں سے انہیں تکفیری دہشتگردوں کے لئے بھیجا گیا تھا۔ہتھیاروں کی یہ کھیپ ایک ہزار سات سو ٹن پر مشتمل تھی۔ دہشتگردوں نے مغرب کے دئے ہوئے ہتھیاروں کو جن میں سے بہت سے ہتھیار امریکی ساخت کے ہیں اپنی تحویل میں لے کر شام میں اپنے زیر قبضہ علاقوں میں منتقل کردیا۔ جبھۃ النصرہ تکفیری گروہ کے گودام سے برآمد ہونے والے ہتھیاروں میں مارٹر لانچر، اینٹی ٹینک میزائل، گائڈڈ میزائل، مختلف قسم کے تاو اینٹی ٹینک میزائل اور مغربی ملکوں بالخصوص امریکی ساخت کا گولہ بارود اور ہینڈ گرینیڈ شامل ہیں۔ میڈیا رپورٹوں نیز امریکہ کے کارٹر انسٹی ٹیوٹ کے اعلان کے مطابق تکفیری گروہ جبھۃ النصرہ جسے اقوام متحدہ نے دہشتگرد گروہوں کی فہرست میں شامل کررکھا ہے اسے اور شام کی آزاد فوج کے بینر کے تحت تئیس دہشتگرد گروہوں کو امریکہ نے گذشتہ دو برسوں میں اینٹی ٹینک تاو میزائل دئے ہیں۔ اس رپورٹ میں آیا ہے کہ امریکہ کے حمایت یاقتہ نام نہاد مسلح گروہوں کو ایسے عالم میں امریکہ کے جدید ترین ہتھیار منجملہ تاو اینٹی ٹینک میزائل دئے جا رہے ہیں کہ ان گروہوں کے بہت سے افراد داعش کے تکفیریوں کے ہمراہ دہشتگردانہ کاروائیاں انجام دیتے ہیں اور امریکہ اور مغربی ملکوں کے دئے ہوئے ہتھیار تکفیری دہشتگردوں کے ہاتھ لگ جاتے ہیں۔
فوجی امور کے ایک ماہر نے روسی ٹی وی چینل سے گفتگو میں کہا کہ تکفیری دہشتگرد گروہ جبھۃ النصرۃ کے گودام سے برآمد ہونے والے ہتھیاروں میں بہت سے ہتھیار امریکی ساخت کے ہیں جنہیں امریکی فوج اور نیٹو کی افواج ہی استعمال کرتی ہیں۔ ادھر امریکہ کے جریدے ویٹیرن کے ایڈیٹر ان چیف نے امریکہ کو دہشتگردوں کا اصلی حامی قراردیا ہے۔ گورڈن ڈف نے کہا ہے کہ اس وقت داعش اور دیگر دہشتگردوں کی صفوں میں شامل جو لوگ شام اور عراق میں لڑ رہے ہیں انہیں فوجی ٹریننگ امریکہ نے دی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ابھی تک امریکہ اور اس کے علاقائی اتحادی بالخصوص سعودی عرب علاقے میں بعض دہشتگرد گروہوں کی حمایت کررہے ہیں۔ گورڈن ڈف نے کہا کہ ان میں سے بہت سے دہشتگرد گروہوں کو سی آئی اے اور مغربی ملکوں کی جاسوس تنظیموں کی حمایت حاصل ہے۔ امریکہ کے اس جریدے کے ایڈیٹر ان چیف نے کہا ہےکہ داعش کے خلاف امریکہ اور اسکے اتحادیوں کا موقف سچائی پر مبنی نہیں ہے۔ یہ ایسے عالم میں ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے سربراہ نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل جنوبی شام میں نئے محاذ کھولناچاہتے ہیں۔ علاالدین بروجردی نے کہا ہے کہ اردن میں دہشتگردی کے کیمپوں میں امریکہ کی نگرانی میں دہشتگردوں کو ٹریننگ دی جاتی ہے اور انہیں مسلح کیا جاتا ہے اور اس کے بعد شام بھیجا جاتا ہے۔