پاکستان پر دہشت گردی کے مسئلے میں انتخابی رویہ اپنانے کا الزام
https://urdu.sahartv.ir/news/annalys-i241162-پاکستان_پر_دہشت_گردی_کے_مسئلے_میں_انتخابی_رویہ_اپنانے_کا_الزام
امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے پاکستان پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ دہشت گرد گروہوں کے سلسلے میں انتخابی رویہ اختیار کئے ہوئے ہے۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Aug ۰۶, ۲۰۱۶ ۱۶:۵۶ Asia/Tehran
  • پاکستان پر دہشت گردی کے مسئلے میں انتخابی رویہ اپنانے کا الزام

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے پاکستان پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ دہشت گرد گروہوں کے سلسلے میں انتخابی رویہ اختیار کئے ہوئے ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ امریکی حکومت نے پاکستان کے اعلی حکام سے کہا ہے کہ اسلام آباد، تمام دہشت گرد گروہوں منجملہ ان دہشت گرد گروہوں کے خلاف بھی کارروائی کرے جو پاکستان کے پڑوسی ملکوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ امریکہ کے اس ترجمان کے مطابق یہ بات قابل افسوس ہے کہ پاکستان، صرف ان گروہوں کو نشانہ بناتا ہے جو اس کے استحکام کے لئے خطرہ بنتے ہیں۔ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان کا یہ بیان امریکی وزارت دفاع کے اس بیان کے ایک روز بعد سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ امریکی کانگریس نے پاکستان کو تیس کروڑ ڈالر کی فوجی امداد فراہم کئے جانے کی مخالفت کی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹر، حقانی گروہ کے خلاف پاکستان کے اقدامات کے ناکافی ہونے کے بارے میں امریکی کانگریس میں صفائی پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ دہشت گردی کے سلسلے میں پاکستان کی جانب سے انتخابی رویہ اپنانے سے متعلق عائد کیا جانے والا الزام، ایک ایسا مسئلہ ہے جو گذشتہ کئی سالوں سے امریکی حکومت کے ایجنڈے میں شامل رہا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق انتہا پسندی کے بارے میں دوہرے معیار سے متعلق پاکستان کی پالیسی، اس بات کا باعث بنی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف مہم کے سلسلے میں علاقائی کوششیں اب تک کامیاب ثبت نہیں ہو سکی ہیں۔ جیساکہ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان صرف ان گروہوں کا مقابلہ کرتا ہے جو اس کے امن و استحکام کے لئے خطرہ بنتے ہیں جبکہ وائٹ ہاؤس اس بات کی توقع کر رہا ہے کہ اسلام آباد، ان تمام گروہوں کے خلاف بھی کارروائی کرے جو پڑوسی ملکوں کی سلامتی کے لئے خطرہ بن رہے ہیں۔ کچھ عرصے قبل افغانستان کے صدر محمد اشرف غنی نے بھی امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان کے بیان کی مانند اپنے ایک بیان میں الزام لگایا تھا کہ پاکستان، طالبان گروہ کے سلسلے میں تفریق کا قائل ہے اور وہ اس گروہ کے افراد کو اچھے اور برے عناصر میں تقسیم کرتا ہے۔ امریکہ، اس کے علاوہ کہ پاکستان پر دہشت گردی کے مسئلے میں غیر شفاف پالیسی اپنانے کا الزام عائد کرتا ہے، یہ خیال بھی رکھتا ہے کہ پاکستان، علاقے منجملہ ہندوستان میں نیابتی جنگوں کا منصوبے ساز ہے جس پر اسلام آباد کے حکام نے سخت برہمی کا اظہار بھی کیا ہے۔ البتہ دہشت گردی کے خلاف مہم سے متعلق پاکستان کی کارکردگی کے بارے میں امریکی حکومت اور امریکی کانگریس کے مواقف میں فرق پایا جاتا ہے۔ حکومت امریکہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی حکومت، اگرچہ انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے میں صداقت کا مظاہرہ نہیں کر رہی ہے مگر حکمت عملی کی بنیاد پر بعض وجوہات کی بناء پر دہشت گردی کے خلاف مہم میں اس ملک کی حمایت کئے جانے کی ضرورت ہے۔ اس کے مقابلے میں امریکی کانگریس کا خیال ہے کہ مختلف قسم کے حربوں منجملہ فوجی و مالی حمایت بند کر کے پاکستان پر دہشت گردی کے خلاف مہم میں شفاف پالیسی اختیار کرنے اور انتہا پسند گروہوں کے خلاف دوہرے معیار کی پالیسی سے گریز کئے جانے کے بارے میں دباؤ ڈالا جانا چاہئے۔ یہی وجہ ہے کہ وائٹ ہاؤس کے مثبت نقطہ نظر کے باوجود امریکی کانگریس نے پاکستان کو آٹھ ایف سولہ طیاروں کی فراہمی کے لئے یہ فیصلہ کیا کہ وہ ان طیاروں کی پوری رقم فراہم کرے جبکہ اس فیصلے پر اسلام آباد کے حکام نے شدید احتجاج کیا۔ چنانچہ پاکستان کے لئے فوجی و مالی مدد و حمایت کے بارے میں امریکی حکومت اور کانگریس کے درمیان نظریاتی اختلاف پائے جانے کے باوجود ایسا معلوم ہوتا ہے دونوں ہی اس بات پر اتفاق رائے رکھتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف مہم سے متعلق پاکستان کی پالیسی شفاف نہیں ہے۔